حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 63
63 فونوگراف کی ایجاد اور ہندوؤں کو تبلیغ 12 سیدنا حضرت مسیح موعود کو یہ بڑا شوق تھا کہ تبلیغ اسلام کے نئے سے نئے مواقع تلاش کئے جائیں۔چنانچہ انہیں ایام میں جن کا ہم ذکر رہے ہیں۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ ایک فونوگراف خرید کر قادیان لائے۔اس کے ساتھ آواز بھر نے کا سامان بھی تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے سورۃ انبیاء کا آخری رکوع پڑھوا کر اس میں بھرا اور حضرت اقدس کو ٹنا یا گیا۔حضرت اقدس اس سے بہت محظوظ ہوئے۔قادیان کے آریوں کو جب پتہ لگا کہ نواب صاحب فونوگراف لائے ہیں تو ایک عجوبہ چیز سمجھ کر کئی آریوں نے حضرت اقدس سے درخواست کی کہ ہم بھی فونوگراف سننا چاہتے ہیں۔حضور نے فرمایا۔بہت اچھا۔آپ بھی کسی وقت آ جائیے۔ادھر تو ان کو یہ کہا اور ادھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ ” ہم تو فونوگراف سنا سنا نا جب تک کہ اس سے کوئی مفید کام نہ لیا جائے تضیع اوقات سمجھتے ہیں۔کیوں نہ فونوگراف کے ذریعہ ان آریوں کو تبلیغ کی جائے۔“ چنانچہ آپ نے چند اشعار لکھے اور مولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ آپ انہیں خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر اس میں بند کر دیں۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل کی گئی۔جب آریہ صاحبان آگئے تو وہ اشعار سنائے گئے۔جن کا پہلا شعر یہ ہے۔