حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد

by Other Authors

Page 62 of 71

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 62

62 کے بارہ میں استعمال ہوا ہو۔11 - 1898ء کے اوائل میں ایک عیسائی احمد شاہ نے امہات المؤمنین کے نام سے ایک نہایت دل آزار کتاب شائع کی۔جس سے مسلمانوں کے دل خون اور جگر چھلنی ہو گئے۔جب وہ گندہ دہن ایک ہزار کتب مسلمانوں میں مفت تقسیم کر چکا تو انجمن حمایت اسلام لاہور نے گورنمنٹ پنجاب کو ایک میموریل بھجوایا کہ یہ کتاب ضبط کر لینی چاہئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور خود ایک میموریل تیار کر کے گورنمنٹ کو بھجوایا۔حضور نے مسلمانوں کو بھی توجہ دلائی کہ جب کہ اس کتاب کی بکثرت اشاعت ہو چکی ہے تو اب اسے ضبط کرنے سے کیا حاصل۔اب تو وقت ہے کہ اس کا جواب لکھ کر اسے مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے تا سب مسلمان دفاع اسلام کا حق ادا کر سکیں۔اور ان کے زخموں پر یہ جواب مرہم کا کام دیں۔حضور نے یہ بھی فرمایا کہ پادریوں نے اس قسم کی سینکڑوں کتابیں مسلمانوں کا دل دکھانے اور ان کے جذبات مجروح کرنے کے لئے شائع کی ہیں۔اس کا علاج تو یہ ہے کہ ان کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے۔اور اگر گونمنٹ اس طریق کو نا پسند کرتی ہے تو اسے آئندہ کے لئے مذہبی مناظرات میں دل آزار اور نا پاک کلمات کے استعمال کوحکما روک دینا چاہئے۔(اشتہار 4 مئی 1898 ء حیات طیبہ صفحہ 188 )