حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 6 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 6

9 8 آپ کے تقوی وطہارت اور اعلیٰ کردار کا یہ عالم تھا کہ جب آپ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ کے اس زمانے کے ایک کلاس فیلو نے ایک احمدی پروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب سے کہا: انگلستان میں قیام اور پاکیزہ جوانی بھئی مبارک ہو۔آپ کو نیا لیڈ ر خوب ملا ہے۔ہم اکٹھے پڑھتے تھے اور ہم انہیں کہا کرتے تھے کہ آپ کے دادا جان کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن اگر آپ نبوت کا دعوی کر دیں تو ہم آپ کو مسیحا تسلیم کرلیں گے۔“ (1938-1934) شادی کے ایک ماہ بعد آپ اعلی تعلیم کے لئے 6 ستمبر 1934ء کو انگلستان تشریف لے گئے (بحوالہ ماہنامہ خالدر بوہ سید نا ناصر نمبر اپریل مئی 1983 ء صفحہ 61) جہاں آپ کا چار سال قیام رہا۔اس دوران ایک مرتبہ چند ماہ کے لئے واپس وطن تشریف حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ سے شادی لائے۔انگلستان جانے سے پہلے حضرت مصلح موعود نے بہت قیمتی نصائح تحریر کر کے دیں جو بی اے کرنے کے بعد آپ قادیان تشریف لے گئے جہاں آپ کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے الفضل قادیان 11 ستمبر 1934ء میں شائع ہوئیں۔آکسفورڈ سے آپ نے پولیٹیکل سائنس کے لئے آکسفورڈ (انگلستان) جانے کا پروگرام بنا۔آپ کے والد حضرت مصلح موعود نے میں ایم اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔9 نومبر 1938 ء کو مصر سے ہوتے ہوئے آپ واپس مناسب سمجھا کہ پہلے آپ کا نکاح کر دیں۔چنانچہ 2 جولائی 1934ء کو حضرت نواب محمد علی قادیان پہنچے۔صاحب اور حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی بیٹی حضرت سیدہ منصورہ بیگم سے آپ کا نکاح ہوا۔انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے اپنے بزرگ والد کی نصائح پر پورا پورا عمل کیا اور 5اگست 1934ء کو مالیر کوٹلہ سے رخصتی عمل میں آئی اور 6 اگست 1934 ء کو آپ دلہن وہاں پر لوگوں نے آپ کی پاکیزہ زندگی کے مشاہدے کئے۔چھٹیاں عموماً آپ خاندان مسیح موعود کو لے کر قادیان پہنچے جہاں ایک شاندار دعوت ولیمہ ہوئی۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے کے بعض اور نو جوانوں کے ساتھ جو ان دنوں انگلستان پڑھ رہے تھے ، ڈیون شائر کی ایک انگریز بطن سے آپ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کیساتھ آپ کا خاتون کے فارم میں Paying Guest کے طور پر گزارتے تھے۔47 سال کا لمبا ساتھ رہا۔3 دسمبر 1981ء کو حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کا انتقال ہوا۔جب آپ خلیفہ بنے تو بیت الفضل لندن کے اس وقت کے امام بشیر احمد رفیق صاحب کے دریافت کرنے پر اس خاتون نے بتایا وہ سامنے کمرہ ہے جس میں وہ ہمیشہ ٹھہرا کرتے تھے اور صبح صبح جب میں ان کے کمرہ کے آگے سے گزرتی تو ایک عجیب بھنبھناہٹ کی مسحور کن آواز آیا کرتی تھی۔ایک دن میں نے ناصر سے پوچھا کہ تم صبح سویرے کیا پڑھتے رہتے ہو جس میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا تو ناصر نے بتایا کہ وہ اپنی مقدس کتاب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ایک شام کھانے کی میز پر یہ ذکر چل پڑا کہ مستقبل میں ان کے کیا ارادے ہیں۔