حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

by Other Authors

Page 22 of 27

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 22

41 40 ہے۔آپ نے وہ ٹکڑے ایک ایک کر کے کھالئے اور خاکسار حیرانی سے دیکھتا رہا۔محترم ضیاءالرحمان صاحب بیان کرتے ہیں:۔(ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 170) حضور رحمہ اللہ لنگر خانہ نمبر ۳ کے ناظم ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم معاونین نے لنگر خانے میں ایک وقت کا کھانا کھا لیا تو کھانے کے بعد حضور تشریف لائے اور فرمانے لگے۔تم نے کھانا کھا لیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی میاں صاحب۔فرمانے لگے میرے لئے کیوں نہیں رکھا۔میں نے عرض کیا۔میاں صاحب ابھی اور لے آتے ہیں۔حضور نے فرمایا یہاں کچھ نہیں ہے اور سامنے نظر پڑی تو دیکھا کہ تازہ روٹیوں کے کچھ کنارے اور ٹکڑے پڑے ہوئے تھے جو ہم نے کھانا کھاتے ہوئے بچائے تھے۔انہیں دیکھ کر فرمانے لگے۔وہ سامنے جو ہے۔چنانچہ حضور وہ کنارے کھانے لگ گئے۔اسے دیکھ کر ہمیں سخت شرمندگی ہوئی کہ ہم نے کس طرح روٹیوں کے کنارے الگ کر کے کفران نعمت کیا ہے۔اس طرح حضور نے ہمیں ایسا سبق دیا جو ہمیں کبھی نہیں بھولتا۔(ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 172) مکرم عطاء المجیب صاحب را شد امام بیت الفضل لندن لکھتے ہیں:۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت بہت سادہ اور تکلفات سے پاک تھی۔لباس بہت عمدہ ہوتا تھا لیکن تکلفات کا رنگ نہیں ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ نماز جمعہ کے لئے تشریف لائے تو آپ کی قمیض کی کف پر بٹن نہیں لگا ہوا تھا۔خطبہ جمعہ کے دوران جب MTA پر قریب سے تصویر دکھائی گئی تو عشاق کی باریک بین نظر نے اس بات کو خاص طور پر نوٹ کیا اور بعض فون ای روز آ گئے کہ آج حضور انور کی قمیض پر بٹن نہیں لگا ہوا تھا۔ایک دوست نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک سفر کے دوران کھانے کا وقت ہوا تو حضور کی کاروں کا قافلہ ایک آبادی میں سڑک کے کنارے روکا گیا اور خدام نے فوری طور پر کسی مناسب جگہ کی تلاش شروع کی جہاں بیٹھ کر آرام سے کھانا کھایا جا سکے۔اس عرصہ میں حضور نے اپنی کار کی ڈگی کھلوائی۔اس میں کچھ بریڈ نظر آئی اور کچھ بچی ہوئی کھیر۔آپ نے خود ہی اس کھیر کے سینڈوچ بنالئے اور ساتھیوں سے فرمایا کہ میرے لئے تو یہی کافی ہے تم اپنی پسند کی جگہ تلاش کر کے وہاں اپنی پسند کا کھانا کھالو۔ہمدردی خلق (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 304) مکرم منظور احمد سعید صاحب بیان کرتے ہیں:۔ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور حضور انور سے کہنے لگا مجھے کوئی پرانا سائیکل لے دیں۔حضور نے مجھے فرمایا: منظور صاحب اسے کوئی پرانا سائیکل لے دیں۔میں نے بازار سے پتہ کیا لیکن سائیکل نہ مل سکا۔میں نے آ کر کہا حضور پُرانا سائیکل تو نہیں مل سکا۔فرمانے لگے: پھر میرا یہ سائیکل اس کو دے دیں۔چنانچہ میں نے حضور کا