حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 11
19 18 مباہلہ کا چیلنج جماعت احمدیہ کی تاریخ ابتلاؤں میں صبر و ثبات قدم سے بھری ہوئی ہے۔اپریل 1984ء میں پاکستان کے جابر ڈکٹیٹر نے اینٹی احمد یہ آرڈینینس نمبر 20 Anti Ahmadiyya Ordinance جاری کیا جس کے باعث احمد یوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس دور میں احمدیوں پر اسلام علیکم کہنے پر اور شادی کارڈ پر بسم اللہ الرحمان الرحیم لکھنے پر بھی مقدمات درج ہوئے۔آرڈینینس کے حکومتی اقدام سے شہ پا کر اور شر پسند ملاؤں کے اُکسانے پر احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ان کے اموال اور جانیں لوٹی جانے لگیں۔ان حالات میں امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے خدا کے حضور فریاد کی اور اسی کے اذن سے آپ نے جون 1988ء میں تمام معاندین کو مباہلے کا چیلنج دیا۔پیارے بچو! قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ جب بحث مباحثہ اور دلائل سے سمجھانے کے باوجود کوئی نہ سمجھے تو بالآخر خدا کے مقرر کردہ انبیاء اور خلفاء بعض اوقات مخالفین کو مباہلے کا چیلنج دیتے ہیں۔جس میں دونوں فریق اپنا معاملہ خدا کے حضور پیش کرتے ہیں۔ہر فریق خدا کے حضور یہ دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بچے کی مددو نصرت فرمائے اور جھوٹے کولعنت اور ذلت سے دو چار کرے۔اسی طرح کا چیلنج حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ منورہ میں نجران سے آئے ہوئے عیسائیوں کو دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے مخالف علماء کو مباہلے کا چیلنج دیا۔اسی سنت کے مطابق حضرت خلیفہ اسیح الرائع نے بھی چیلنج دیا۔خدا تعالیٰ نے اس مباہلہ کے حیرت انگیز اثرات ظاہر فرمائے۔12 اگست 1988ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے ضیاء الحق کو متنبہ کیا اور پیشگوئی کے رنگ میں فرمایا کہ خدا کی تقدیر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔پیارے بچو! اس خطبہ کے صرف پانچ دن بعد 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق اپنے کئی ساتھیوں سمیت طیارے کے حادثے میں لقمہ اجل بن گیا۔یہ 130-C طیارہ فضا میں پرواز کر رہا تھا کہ کسی نامعلوم وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا اور جہاز کے ساتھ ساتھ اس کے مسافروں کے بھی ٹکڑے ہو کر رہ گئے خدا کی بات کتنی سچائی سے پوری ہوئی۔لو ایک واقعہ اور سنو ،1983ء میں ایک مولوی اسلم قریشی جو ایک لفٹ آپریٹر تھا لیکن احمدیوں سے دشمنی کی بناء پر اب ” مولانا اسلم قریشی بن چکا تھا اچانک اپنے گھر سے غائب ہو گیا۔ایک سوچی کبھی سازش کے تحت یہ الزام احمد یوں پر لگایا گیا کہ احمدیوں نے اسے حضرت مرزا طاہر احمد کے حکم سے قتل کر دیا ہے۔اس جھوٹ کی س قدر تشہیر کی گئی جس کی کوئی حد نہیں۔ہمارے خلاف جلسوں میں شائد ہی کوئی