حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 15
۱۵ اور پھر اسی طرح خدا کے پاک کلام قرآن پاک سے بے انتہا محبت تھی۔سوائے اِس کے کہ بیمار ہوں روزانہ صبح نماز سے فراغت حاصل کر کے قرآن کریم پڑھتی تھیں اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہتی تھیں۔جب میں پڑھتا تھا تو ساتھ ساتھ میری غلطیاں درست کرتی جاتی تھیں اور مجھے نماز پڑھانے کا ایسا شوق تھا کہ بچپن سے ہی کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ کر مجھے نماز کے لئے مسجد میں بھیج دیا کرتی تھیں او اگر یکی کبھی کچھ کوتاہی کرتا تو بڑے افسوس اور حیرت سے کہتیں کہ طاری تم میرے ایک ہی بیٹے ہو میں نے خدا سے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے بھی یہی دعا کی تھی کہ اسے میرے ربت مجھے ایسا لڑکا دے جو نیک ہو اور میری خواہش ہے کہ تم نیک بنو اور قرآن شریف حفظ کرو۔اب تم نمازوں میں تو نہ کو تا ہی کیا کرو مگر جب میں نماز پڑھ لیتا توئیں دیکھتا کہ امتی کا چہرہ وفور مسرت سے تمتما اٹھتا اور مجھے بھی تسکین ہوتی۔پھر مجھے اکثر کہتیں طاری قرآن کریم کی بہت عزت کیا کرو دوم : " امی ابا جان کی رضا کو اس قدر ضروری خیال کرتی لے یعنی حضرت مصلح موعود :