سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 19 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 19

35۔34 کہ مجھے روپے کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول اس وقت اپنے ہسپتال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ وقت کے بعد شاہ پور کے دو ہندو رئیس آئے اور ایک تھیلی میں پھل اور چار سو روپیہ نذرانہ پیش کیا۔عشق قرآن دوسری بات آپ کی سیرت میں عشق قرآن تھی۔آپ فرماتے ہیں۔مجھے قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا ہی کی کتاب پسند آئی۔میرا تو اعتقاد ہے کہ اس کتاب کا ایک رکوع انسان کو بادشاہ سے بڑھ کر خوش قسمت بنا دیتا ہے۔اسی طرح فرمایا میں نے قرآن کریم بہت پڑھا ہے۔اب تو یہ میری غذا ہے اگر آٹھ پہر میں خود نہ پڑھوں اور نہ پڑھاؤں اور میرا بیٹا سامنے آکر نہ پڑھے تو مجھے سکون نہیں ملتا۔سونے سے پہلے وہ آدھ پارہ مجھے سنا دیتا ہے۔غرض میں قرآن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔وہ میری غذا ہے۔ایک دفعہ قرآن شریف کے درس کے لئے بیت اقصیٰ کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔آپ کو راستے میں اطلاع ملی کہ صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے نے قرآن مجید حفظ کر لیا ہے۔آپ وہیں ایک دکان کی چٹائی پر سجدہ شکر میں گر گئے۔آپ تیز بخار میں بھی درس قرآن کا ناغہ نہ ہونے دیتے تھے۔ایک دفعہ بیت اقصیٰ میں درس دیتے ہوئے اچانک شدید ضعف ہو گیا۔بیٹھ گئے۔پھر لیٹ گئے۔ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔چلنے کی طاقت نہ رہی۔چار پائی پر اُٹھا کر لائے گئے۔مگر راستے میں جب بیت مبارک کے پاس پہنچے تو فرمایا۔مجھے گھر نہ لے جاؤ۔بیت مبارک میں لے جاؤ۔باوجود اس تکلیف کے نماز مغرب کے بعد ایک رکوع کا درس دیا۔پھر لوگ چار پائی پر اُٹھا کر گھر تک لائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے حد محبت آپ کی زندگی کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور اطاعت میں اُونچے مقام پر تھے۔قادیان سے ایک منٹ باہر جانا آپ موت سمجھتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص ہزار روپیہ روزانہ بھی مجھے دے۔تو پھر بھی میں حضرت صاحب کی محفل چھوڑ کر قادیان سے باہر جانا پسند نہ کروں گا۔ایک دفعہ آپ کو اسہال کی بیماری تھی۔حضرت صاحب کی طرف سے تقریر کا حکم ملا۔چنانچہ اسی وقت باہر چلے گئے اور تقریباً تین گھنٹے تک تقریر کی۔ایک دفعہ فرمایا۔اگر میری لڑکی ہو اور مرزا صاحب اسے سوسال کے بوڑھے سے بیاہنا چاہیں تو میں ہرگز انکار نہیں کروں گا۔ایک دفعہ نواب خان صاحب مرحوم تحصیلدار نے آپ سے عرض کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا۔مجھے بہت فائدے حاصل ہوئے ہیں۔پہلے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بذریعہ خواب ہوا کرتی تھی اب بیداری میں بھی ہوتی ہے۔(حیات نور صفحہ 194)