حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 20
37 36 میں شامل فرمایا تھا جن کو اسی زندگی میں جنت کی بشارت دی گئی تھی اور وہ عشرہ مبشرہ کہلاتے تھے۔حضرت عمر نے چھ ہزار مجاہدین ہماری مدد کے لئے بھجوائے اور ہماری ساری فوج کی تعداد چالیس ہزار ہوگئی جن میں ایک ہزار اصحاب رسول اللہ اور ایک سو وہ صحا بہ بھی شامل حضرت ابو عبیدہ بھی میرے بہت قدردان تھے اور ضروری کاموں میں مجھ سے ضرور تھے جنہوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا۔مشورہ لے لیا کرتے تھے۔جنگ یرموک مسلمان شام کا اکثر حصہ فتح کر چکے تھے ہر قل نے شدید انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔اس نے اپنے تمام ملکوں سے ایک زبردست فوج تیار کی جس میں بارہ قوموں کے لوگ شامل تھے جن میں شہزادے، امراء اور بڑے بڑے پادری سب شامل تھے۔مئی ۶ ۶۳ ء تک ہر قل کے پاس ایک لاکھ پچاس ہزا ر ا فواج اکٹھی ہوگئیں۔ہر قل نے اپنی فوج کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور تمیں تمہیں ہزار سپاہی پر ایک سالار مقرر کیا۔ایک ماہ تک کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ماہان اور میری ملاقات ہوئی لیکن صلح نہ ہوسکی۔رومی فوجوں کے درمیان پادری کھڑے صلیبیں لہرا رہے تھے اور ہزاروں عیسائیوں نے موت کی قسم کھا رکھی تھی۔ابوعبیدہ نے مجھے جنگ کا منصوبہ بنانے کا حکم دیا۔میں نے پیدل فوج کے کئی حصے کئے اور اسی طرح سواروں کا ایک اور متحرک دستہ بنایا اور کل فوج کو گیارہ میل لمبے محاذ پر پھیلا دیا۔فوج کے دائیں حصے پر یزید سالار مقرر ہوئے ، بائیں پر عمرو بن العاص۔درمیان میں ابو عبیدہ اور شرحبیل ، ابو عبیدہ کے فوجی افسروں میں عکرمہ بن ابو جہل اور میرا بیٹا عبد الرحمن بھی تھا۔متحرک رسالے کی کمان ضرار کے پاس تھی۔میں نے کچھ اس طرح منصو بہ بنایا کہ اس وقت تک دفاعی لڑائی لڑی جائے جب تک ان حالات میں ابو عبیدہ نے میرے ساتھ مشورہ کیا۔میں نے مشورہ دیا کہ تمام اسلامی رومی فو جیں تھک نہ جائیں۔مسلمان فوج کے پیچھے عورتوں اور بچوں کے خیموں کی ایک قطار افواج کو جابیہ کے قریب اکٹھا کر لیا جائے جابیہ کے مقام پر شام ، اردن اور فلسطین کے تھی۔ہر دستے کے پیچھے ان کے بیوی بچے رکھے گئے۔ابو عبیدہ نے عورتوں اور بچوں کو نصیحت کی کہ اگر کوئی مسلمان سپاہی بھاگ کر پیچھے آئے تو عورتیں اور بچے ان خیموں کے راستے ملتے تھے۔رومی فوج کے دمشق پہنچنے سے پہلے ہی ابو عبیدہ اور میں دمشق والوں کو ان کا جزیہ بانس لے کر اور پتھر مار مار کر مرمت کریں۔واپس کر کے جابیہ آگئے۔دمشق کے لوگوں نے کہا۔” آپ کا راج اور عدل ہم کو اس حالت ظلم و جبر سے زیادہ عزیز ہے جس میں ہم پہلے رہتے تھے۔کسی فاتح قوم نے آج بلکہ اللہ کی مدد پر ہے۔میں نے اور ابو عبید گانے اپنی فوجوں کو بتایا کہ فوج کی قوت کا انحصار اس کی تعداد پر نہیں تک جز یہ واپس نہیں کیا تھا۔اگلے دن مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اس صدی کی سب سے بڑی جنگ جابیہ میں تمام اسلامی فوجوں کو رومی فوجوں کے پہنچنے سے پہلے ہی بلوالیا گیا۔اسلامی ہونے والی تھی۔دونوں فوجوں کی صفوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ تھا۔مسلمانوں نے فوج جابیہ اور دریائے یرموک کے درمیان صف آرا ہوگئی۔اتنے میں رومی فوج بھی ڈیڑھ تلاوت قرآن کریم اور دعاؤں میں رات بسر کی اور اگلے دن جنگ چنگاریوں سے شروع ہو لاکھ کی تعداد میں میدانِ یرموک میں پہنچ گئی۔کر کئی دنوں بعد بے تحاشا بھڑکتی ہوئی آگ بن کر ختم ہوئی۔