حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 23

(23) ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے جس امام کو بھیجا ہے۔وہی ان روحانی رشتوں کا ضامن بن کر آیا ہے وہی ان روحانی رشتوں کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے منادی بنا کر بھیجا گیا ہے۔تم اُس کی نداء پر کان دھر واطاعت اور محبت کے ساتھ اس کے حضور اپنے دلوں کو ان معنوں میں جھکا دو کہ جس طرف وہ بلاتا ہے دل لپکتے ہوئے ، لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس طرف وہ ان دلوں کو بلا رہا ہے ( یعنی تم سب کے دلوں کو ) وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رستہ ہے اُس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں۔وہ خدا کا رستہ ہے۔اُس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں اسی کا نام صراط مستقیم ہے اسی سے وحدت ملی عطا ہوتی ہے۔اسی سے تفرقے پھر وحدت کی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔پس اب سب حضرت مسیح موعود کی آواز پر لبیک کہیں اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دور کی بات ہے تو ان نصیحتوں پر تو عمل کریں یا بتائیں کہ ان میں کیا نقص ہے۔ان سے بہتر بات تو پیش کر کے دکھا ئیں۔آپ تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت مسیح موعود وہی ہیں جو حکم اور عدل بن کر آئے تھے اور تمہارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے والے ہیں۔اب آپ کے فیصلے میں نے تمہیں سنا دئے ہیں۔ان فیصلوں سے بہتر فیصلے کر کے تو دکھاؤ۔بتاؤ تو سہی اس سے زیادہ اور کون سی پاک اور مؤثر راہ ہوسکتی ہے؟ جو مسلمانوں کے بٹے ہوئے دل پھر سے اکھٹے کر سکتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان اب تمہارے اختیار کی یا ہاں یا نہ کی بات نہیں رہی۔امر واقعہ یہ ہے کہ سچا ایمان جن رستوں کی طرف بلاتا ہے ان رستوں سے انکار خود کشی کے مترادف ہو جایا کرتا ہے۔تم انکار کرو گے بھی تو باتیں وہی مانی پڑیں گی جو سیح موعود کہتے ہیں۔ان باتوں سے بہتر باتیں تمہارے فرشتے بھی سوچ نہیں سکتے کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کی برکتوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل پر نازل ہوا ہے۔جو وحدت کے رستے آپ نے بتائے ہیں۔اُن کوسوا اور کوئی وحدت کا رستہ نہیں ہے۔پس اس رستے سے آؤ یا اُس رستے سے آؤ۔طوعاً آؤ یا کرھا آؤ تمہیں مسیح موعود کی اگر بیعت نہیں کرنی تو باتوں کو لازماً ماننا پڑے گا اور اگر