حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 67
132 131 مجھے ایمان کی فکر ہے مولوی صاحب نے کیوں دوسرے شخص کو ایسی حالت میں رکھا۔جس سے اس کو بد دیانتی کا موقع ملا۔اور کیوں اسلامی حکم کے مطابق اس سے کوئی تحریر نہ لی اور کیوں اس سے با قاعدہ قبضہ نہ حاصل کیا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۴۲،۱۴۱ ۱ روایت نمبر (۱۴۸) وو ۱۶ - حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا اور میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن نماز میں سجدہ کیا کرتے تھے۔وہاں سے کئی کئی دن تک بعد میں خوشبو آتی رہتی تھی۔66 ( سیرت المہدی حصہ دوم ص ۲۰ روایت نمبر ۳۲۶) ۱۷- حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی دینی ضرورت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو یہ لکھا کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ میں حنفی المذہب ہوں حالانکہ پ جانتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب عقیدہ اہل حدیث تھے۔حضرت مولوی صاحب نے اس کے جواب میں حضرت صاحب کی خدمت میں ایک کارڈ ارسال کیا T جس میں لکھا۔به مے سجادہ رنگین کن کرت پیر مغان گوید اس کے نیچے ” نور الدین حنفی کے الفاظ لکھ دیئے۔اس کے بعد جب مولوی صاحب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب حنفی مذہب کا اصول کیا ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اصول یہ ہے کہ قرآن شریف سب سے مقدم ہے اگر اس کے اندر کوئی مسئلہ نہ ملے۔تو آنحضرت صلعم کے قول و فعل کو دیکھنا چاہئے۔جس کا حدیث سے پتہ لگتا ہے اور اس کے بعد اجماع اور قیاس سے فیصلہ کرنا چاہئے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔تو پھر مولوی صاحب آپ کا کیا مذہب ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی مذہب ہے اس پر حضرت نے اپنی جیب سے مولوی صاحب کا وہ کارڈ نکالا اور ان کی طرف پھینک کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہے؟ مولوی صاحب شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۴۸ روایت نمبر ۷ ۳۵) کہ سالک بے خبر نبود ز راه و رسم منزلها