حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 66
130 129 لئے باہر پلاؤ، زردہ وغیرہ پک رہا تھا کہ حضرت صاحب کے واسطے اندر سے کھانا آ گیا۔ہم سمجھتے تھے کہ یہ بہت عمدہ کھانا ہوگا۔لیکن دیکھا تو تھوڑا سا خشکہ تھا اور کچھ دال تھی۔اور صرف ایک آدمی کی مقدار کا کھانا تھا۔حضرت صاحب نے ہم لوگوں سے فرمایا۔آپ بھی کھانا کھا لیں۔چنانچہ ہم بھی ساتھ شامل ہو گئے۔حافظ صاحب کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ اس کھانے سے ہم سب سیر ہو گئے۔حالانکہ ہم بہت سے آدمی تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ اول روایت نمبر (۱۴۳) ۱۴۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ جب مینارہ اسیح کے بنے کی تیاری ہوئی۔تو قادیان کے لوگوں نے افسران گورنمنٹ کے پاس شکائتیں کیں کہ اس منارہ کے بننے سے ہمارے مکانوں کی پردہ دری ہو گی۔چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک ڈپٹی قادیان آیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسجد مبارک کے ساتھ والے حجرہ میں ملا اس وقت قادیان کے بعض لوگ جو شکائیت کرنے والے تھے وہ بھی اس کے ساتھ تھے۔حضرت صاحب سے ڈپٹی کی باتیں ہوتی رہیں اور اسی گفتگو میں حضرت صاحب نے ڈپٹی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ بڈھا مل بیٹھا ہے۔آپ اس سے پوچھ لیں کہ بچپن سے لے کر آج تک کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اسے فائدہ پہنچانے کا مجھے کوئی موقعہ ملا ہو۔اور میں نے فائدہ پہنچانے میں کوئی کمی کی ہو۔اور پھر اسی سے پوچھیں کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے تکلیف دینے کا اسے کوئی موقع ملا ہو تو اس نے مجھے تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔حافظ صاحب نے بیان کیا کہ میں اس وقت بڈھا مل کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس نے شرم کے مارے اپنا سر نیچے اپنے زانوؤں میں دیا ہوا تھا اور اس کے چہرہ کا رنگ سپید پڑ گیا تھا۔اور وہ ایک لفظ بھی منہ سے نہیں بول سکا۔(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۳۴، روایت نمبر ۱۴۵) ۱۵ - ” بیان کیا مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ ,, حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے کسی شخص سے ایک زراعتی کنو آں ساڑھے تین ہزار روپیہ میں رہن لیا۔مگر میں نے اس سے نہ کوئی رسید لی اور نہ کوئی تحریر کروائی۔اور کنواں بھی اسی کے قبضہ میں رہنے دیا۔کچھ عرصہ کے بعد میں نے اس کنویں کی آمد کا مطالبہ کیا تو وہ صاف منکر ہو گیا۔اور رہن کا ہی انکار کر بیٹھا۔جناب حافظ صاحب کہتے تھے کہ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ کسی نے یہ خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچا دی۔اور مولوی صاحب کے نقصان پر افسوس کیا۔مگر حضرت صاحب نے فرمایا۔تمہیں ان کے نقصان کی فکر ہے -