حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 35 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 35

68 67 پس و پیش نہ کیا۔اور اپنا سب کچھ اس چشمہ ہدایت کے لئے قربان کر دیا۔(ملاحظہ ہو مجمع البحرین) فرمایا: حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاول نے ایک دفعہ حافظ روشن علی نے میری تقریر ہوتے ہوئے آسمانی کھانا کھا لیا تھا۔بیداری میں کباب اور پراٹھے کھاتا رہا۔کلام امیر ص ۴۹ بدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۱۲ء) حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے یہ ارشاد سن کر حافظ روشن علی صاحب سے مفصل حال پوچھا۔تو انہوں نے فرمایا: ’ ایک دفعہ میں نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا۔سبق کی انتظار میں بیٹھے بیٹھے کھانے کا وقت گزر گیا حتی کہ ہمارا حدیث کا سبق شروع ہو گیا میں اپنی بھوک کی پرواہ نہ کر کے سبق میں مصروف ہو گیا۔اور آنحالیکہ میں بخوبی سبق پڑھنے والے طالب علم کی آواز سن رہا تھا۔اور سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ یکا یک سبق کا آواز مدھم ہوتا گیا۔اور میرے کان اور آنکھیں باوجود بیداری کے سننے اور دیکھنے سے رہ گئے۔اس حالت میں میرے سامنے کسی نے تازہ بتازہ تیا ر کیا ہوا کھانا لا رکھا۔گھی میں تلے ہوئے پراٹھے اور بھنا ہوا گوشت تھا۔میں خوب مزے لے لے کر کھانے لگ گیا۔جب میں سیر ہو گیا تو میری یہ حالت منتقل ہو گئی۔اور پھر مجھے کیا۔سبق کی آواز سنائی دینے لگ گیا۔مگر اس وقت تک بھی میرے منہ میں کھانے کی لذت موجود تھی۔اور میرے پیٹ میں سیری کی طرح ثقل محسوس ہوتا تھا۔اور سچ مچ جس طرح کھانا کھانے سے تازگی ہو جاتی ہے۔وہی تازگی اور سیری مجھے میسر تھی۔حالانکہ نہ میں کہیں گیا اور نہ کسی اور نے مجھے کھانا کھاتے دیکھا۔“ ( کلام امیرص۵۰ بدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۱۲ء) محترم ڈاکٹر میجر شاہنواز صاحب بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے بیان ایک دفعہ سفر میں مجھ کو بہت تھکان ہو گئی اور فکر ہوا کہ آج تہجد کے لئے کیسے اٹھوں گا۔اسی فکر میں سو گیا۔آدھی رات کے بعد میرے منہ پر ایک خالی گلاس جو اوپر طاق میں پڑا تھا۔زور سے گرا جس نے مجھ کو بیدار کر دیا۔گو یا اللہ تعالیٰ نے عین دو بجے زور سے ہوا چلا کر گلاس کو گرا دیا - تا اس کا بندہ نماز تہجد ادا کرے۔“ الفضل ۴ را کتوبر ۱۹۲۹ء ص ۷ ) آپ کو وفات کے وقت سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔جس کی وجہ سے آپ زیادہ سے زیادہ خدمت دین بجالانے کی کوشش میں لگے رہے اور شاگردوں کو بھی اپنے وجود سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی وصیت فرماتے رہے۔آپ کی نزع کی حالت میں جو لوگ آپ کے پاس تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ خدا تعالیٰ سے ملاقات کرنے کے لئے شدید بے قرار تھے۔اور یہ کیفیت