حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 7
10 سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ محبت اور تقویٰ شعار زندگی کے بارہ میں متعدد واقعات پر ایک غیر مسلم مؤرخ کے اصرار پر اپنوں اور غیروں میں سیدنا حضرت مصلح موعود مبنی ایک کتابچہ ” میری والدہ کے نام سے تحریر فرمایا ہے۔موصوفہ احمدیت کے حق میں کی ذات بابرکات کا تعارف کروانے کیلئے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ننگی تلوار اور بہت با غیرت خاتون تھیں۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے اپنے دست کتاب ” حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ۱۹۴۲۴ء میں تالیف فرمائی۔مبارک سے ان کے کتبہ کی عبارت تحریر فرمائی اور قادیان میں بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص سید نا حضرت مصلح موعود اور حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب دونوں کا ( رفقاء) میں اپنے خاوند محترم حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے ساتھ آپ کی آپس کا تعلق بے پناہ پیار و محبت، اخلاص و وفا اور دلی وابستگی پر مشتمل تھا اور اس شعر کا عملی مصداق تھا کہ تدفین عمل میں آئی۔۱۹۳۹ء میں جماعت احمدیہ میں خلافت ثانیہ کے قیام پر پچیس سال پورے ہو گئے۔اس موقع پر سید نا حضرت مصلح موعود کی اجازت سے آپ نے احباب جماعت احمدیہ کو اس مبارک موقع پر ایک معقول رقم بطور نذرانہ اپنے محبوب امام کی خدمت میں الفت کا تب مزا ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی چنانچہ ایک طرف اگر حضرت چوہدری صاحب اپنے محبوب امام کے لئے ہر وقت پیش کرنیکی تحر یک فرمائی تا حضور اس کو جس طرح چاہیں اشاعت دین حق کی مہمات جذبہ محبت و وفا اور دلبستگی سے پُر رہتے تھے اور ہمہ وقت مشغول دعا ہوتے تھے تو عظیمہ میں استعمال فرمائیں۔چنانچہ دسمبر ۱۹۳۹ء میں جلسہ سلور جوبلی قادیان کے دوسری طرف سید نا حضرت مصلح موعود بھی اپنے اس جاں نثار غلام اور فدائی خادم سے موقع پر آپ نے بطور نذرانہ ۱۳اکھ روپے کی خطیر رقم حضور اقدس کی خدمت میں پیش بہت پیار اور محبت کرتے تھے۔چنانچہ اسی تعلق کی بناء پر اللہ تعالی نے ۱۷ یا ۱۸ رنومبر فرمائی اور اپنی طرف سے بطور نذرانہ ہزار روپے بھی پیش کئے۔۱۹۵۳ء کو اپنے مقدس خلیفہ سید نا حضرت مصلح موعود کو حضرت چوہدری صاحب کے حضرت چوہدری صاحب کا وجود گویا سراپا قربانی تھا، بلکہ مجسمہ ایثار وفا تھا۔بارہ میں قبل از وقت ایک رو یاد کھائی۔اس رویاء کے ظہور کے بارے میں بیان کرتے چنانچہ سید نا حضرت مصلح موعود نے جون ۱۹۴۴ء میں جب احباب جماعت کو وقف ہوئے سید نا حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔جائیداد کی تحریک فرمائی تو اُس وقت اس جاں نثار دین حق واحمدیت نے اپنی تمام ۱۷ ، ۱۸ نومبر ۱۹۵۳ ء کی بات ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ جائیداد اپنے محبوب امام کے قدموں پر نچھاور کرتے ہوئے وقف کے لئے پیش کر ہوں۔میاں بشیر احمد صاحب اور درد صاحب میرے ساتھ ہیں۔کسی شخص نے مجھے ایک لفافہ لا کر دیا اور کہا کہ یہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کا ہے۔میں نے اس لفافہ دی۔