سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 5
5 ،، نے بڑے آرام سے رکھا ہوا ہے میں یونہی گھبرا گئی تھی۔شروع شروع میں آپ کا گھبرا جانا لیے ایک مبارک وجود سمجھتے۔حضرت اماں جان کو بھی اس بات کا بہت احساس تھا اور بعض ایک قدرتی بات تھی۔اس کے متعلق حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بتایا کہ اماں جان دفعہ بڑی محبت اور نا ز سے کہا کرتیں کہ: نے ایک بار ذکر کیا کہ : ” جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں سب خاندان والے سخت مخالف تھے ( شاید شادی کی وجہ سے )۔گھر میں دو چار خادم مر د تھے اور ان بیچاروں کی روٹی بھی گھر والوں نے بند کر رکھی تھی۔گھر میں عورت کوئی نہ تھی۔صرف میرے ساتھ فاطمہ بیگم تھیں ( یہ خادمہ دہلی سے ساتھ آئی تھیں ) نہ وہ کسی کی زبان سمجھتی تھیں اور نہ ان کی کوئی سمجھے۔شام کا وقت بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے۔تنہائی کا عالم، غیر وطن، میرے دل کی عجیب حالت تھی اور روتے روتے میرا بُرا حال تھا۔نہ کوئی اپنا تسلی دینے والا ، نہ منہ دھلانے والا ، نہ کھلانے والا ، ( کوئی اپنا رشتہ دار نہ تھا) اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اتری۔کمرے میں ایک چار پائی پڑی تھی جس کی پائینتی پر ایک کپڑا پڑا تھا اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہوگئی۔اگلی صبح حضور نے ایک خادمہ کوبلو ایا اور گھر میں آرام کا سب سامان کر دیا۔“ بچو! اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کو ایک بہت بڑی عزت یہ عطا کی تھی کہ اماں جان کے اپنے خاندان کے ایک بزرگ کو اس شادی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا اور پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس شادی کے متعلق الہام ہوا۔گویا یہ شادی خدا کی عین مرضی کے مطابق تھی۔ان باتوں کی وجہ سے دوسرے آپ کی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ سے بہت محبت کرتے اور آپ کی بہت عزت اور قدر کرتے تھے اور انہیں اپنے ” میرے آنے کے ساتھ آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے۔اس پر پر حضور مسکرا کر جواب دیتے: ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ حضرت اماں جان بھی حضور سے بہت محبت کرتی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دوسینوں میں ایک ہی دل دھڑک رہا ہو۔جس طرح عام میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں ویسے ان دونوں میں کبھی کوئی جھگڑا نہ ہوتا۔حضور حضرت اماں جان کے ساتھ پیار سے نرم لہجے میں بات کیا کرتے۔گھر کے کاموں میں کبھی کوئی اونچ نیچ ہو بھی جاتی تو آپ کچھ نہ کہتے۔ایک واقعہ حضرت اماں جان نے خودسنا یا کہ: میں پہلے پہل جب دہلی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود ) کو گر والے چاول بہت پسند ہیں۔میں نے بڑے شوق سے ان کے پکانے کا انتظام کیا۔تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گڑ ڈال دیا۔وہ بالکل راب بن گئے۔جب دیچی چولھے سے اُتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔حیران تھی کہ اب کیا کروں۔اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔میرے چہرے کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔آپ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا: پھر فرمایا: کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟“