سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 4
4 3 سے بہت ذہین تھیں۔بڑی سلیقے والی تھیں۔آپ کی تربیت خالص دینی طرز پر ہوئی۔چونکہ آپ لوگ دہلی کے رہنے والے تھے اس لیے آپ کا اُٹھنا بیٹھنا،کھانا پینا، پہنا اوڑھنا،غرض سب دہلی والوں کی طرح تھا۔حضرت نانا جان نے آپ کا پہلا نام نصرت جہاں بیگم اور دوسرا نام عائشہ رکھا۔آپ کی شادی اُس زمانہ میں لڑکیوں کی شادی بہت چھوٹی عمر میں کر دی جاتی تھی۔آپ کے بھی بہت سے رشتے آئے لیکن آپ کے والدین کو کوئی رشتہ پسند ہی نہ آتا تھا۔کوئی رشتہ نا نا جان کو پسند نہیں آیا تو کسی کا نانی جان نے انکار کر دیا۔اصل میں نانا جان کو کسی بہت دین دار رشتہ کی تلاش تھی۔جب آپ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوگئی تو حضرت نانا جان نے گھبرا کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کولکھا کہ حضور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے۔“ اُدھر حضور کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ: میں نے ارادہ کیا ہے کہ تیری دوسری شادی کر دوں اور سب انتظام میں خود کروں گا۔“ اور یہ بھی بتایا کہ: تیرا رشتہ دہلی کے ایک سید خاندان میں ہوگا۔“ اس لیے جب حضرت نانا جان کا دعا کا خط پہنچا تو حضور نے اللہ تعالیٰ کی مرضی پر اپنے رشتہ کا پیغام بھیجا اور ساتھ ہی لکھ دیا کہ آپ مجھ پر نیک ظن ( یعنی اعتماد ) کر کے لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دیں۔اس وقت حضور کی پہلی بیوی موجود تھی۔اس سے آپ کے دو بیٹے بھی تھے۔بڑے کا نام تھا حضرت مرزا سلطان احمد اور چھوٹے تھے حضرت مرزا فضل احمد۔لیکن چونکہ آپ کی پہلی بیوی کی طبیعت میں دنیا داری بہت تھی اور دینی حالت کمزور۔اس لیے آپس میں بہت معمولی تعلق رہ گیا تھا اور حضور بہت بے آرامی کی زندگی گزار رہے تھے اس لیے اللہ نے چاہا کہ وہ آپ کی دوسری شادی کر دے۔جب رشتہ آیا تو حضرت نانی جان کو یہ اعتراض ہوا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں۔آپ کا رہنا سہنا اور زبان دہلی والوں سے مختلف ہے۔عمر بھی بڑی ہے۔پہلے شادی بھی ہو چکی ہے۔اس عرصہ میں حضرت اماں جان کے کئی رشتے آئے لیکن نانی جان کو وہ رشتے پسند نہ آئے اور آخر ایک دن فرمایا: اُن لوگوں سے تو غلام احمد ہزار درجہ بہتر ہے۔“ چونکہ حضرت نانا جان پہلے ہی یہ چاہتے تھے آپ نے موقع غنیمت جان کر فورا ہی حامی بھری اور حضور کو رشتہ کی منظوری کی اطلاع دے دی۔کچھ عرصہ بعد حضرت اماں جان بیاہ کر دہلی سے قادیان لائی گئیں۔آپ کا نکاح جامع مسجد دہلی کے مشہور خطیب سید نذیر حسین دہلوی نے پڑھایا۔رہن سہن اور زبان کے فرق کے باوجود حضرت اماں جان نے اپنے آپ کو اس ماحول میں نہایت خوبی سے ڈھال لیا۔اس سے آپ کی سمجھ بو جھ ، لیاقت اور غیر معمولی خوبیوں کا پتہ چلتا ہے کیونکہ یہ کسی عام عورت کے بس کا کام نہ تھا۔شروع میں تو آپ بہت گھبرا ئیں یہاں تک کہ حضرت نانی جان کو لکھ بھیجا کہ ”میں اس قدر گھبرائی ہوئی ہوں کہ شاید میں غم اور گھبراہٹ سے مر جاؤں گی۔“ لیکن ایک ماہ بعد جب دہلی گئیں تو حضرت نانی جان کو خود ہی بتایا کہ ”مجھے تو انہوں 66