سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 2 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 2

1 پیش لفظ احمدی نوجوانوں اور بچوں کو بزرگانِ سلف کی سیرت و سوانح سے واقفیت دلانے کے لئے سادہ اور مختصر تحریر میں کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔زیر نظر کتاب ”حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پہلی مرتبہ 1981 ء میں شائع ہوئی۔محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے اس کو تصنیف کیا اور مکرم محمود احمد صاحب سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زمانہ صدارت میں یہ کتاب شائع ہوئی۔یہ کتاب حضرت ابو بکر کے خلافت کے مقام پر فائز ہونے تک کے واقعات پر مشتمل تھی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روم کے بادشاہ ہر قل نے عرب اور شام کی سرحد پر بسنے والے غیر مسلم قبیلوں کو مدد دے کر تیار کیا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کریں۔جب یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انتظار کرنے کی بجائے خود حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی تیاری شروع کر دی۔ان دنوں حکومت کی کوئی باقاعدہ آمدنی تو ہوتی نہیں تھی جب ضرورت پڑتی رسول اللہ مسلمانوں کو خدا کی راہ میں چندہ کے لیے کہتے۔اس دفعہ بھی رسول اللہ نے مسلمانوں کو چندہ دینے کے لیے کہا۔ہر ایک نے اپنی اپنی طاقت کے مطابق زیادہ سے زیادہ چندہ دیا۔کسی نے ایک ہزار درہم دیا تو کسی نے چار ہزار۔کسی نے اپنا آدھا مال خدا کی راہ میں دے دیا۔ایک صحابی ایسے بھی تھے جنہوں نے گھر میں جو کچھ تھا اکٹھا کیا اور حضور کے قدموں میں لا ڈالا۔مال اتنا تھا کہ رسول اللہ نے آپ سے پوچھا: کچھ بیوی بچوں کے لیے بھی چھوڑا ہے؟ وہ صحابی کہنے لگے: اپنی بیوی اور بچوں کے لیے خدا اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔جانتے ہو یہ صحابی کون ہیں؟ رسول اللہ کے اس عاشق کا نام ابو بکر صدیق تھا، رسول اللہ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور رسول اللہ کے پہلے خلیفہ۔تاریخ اسلام میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے مشہور نام حضرت ابوبکر کا ہے۔آپ نہ صرف اسلام کی تاریخ میں بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی بہت