سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 22 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 22

41 40 رسول اکرم کی یہی محبت تھی کہ اس جھنڈے کی گرہ کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوئے جس کی گرہ کو رسول اللہ نے لگایا تھا۔حضرت عائشہ پر جب منافقین نے بہتان لگایا اور حضرت عائشہ دن رات اس سارا ماجرا معلوم ہوا۔صدمہ سے روتی رہتی رہیں نہ آنسو ھمتے تھے نہ نیند آتی تھی لیکن کیا مجال کہ حضرت ابو بکر کے ماتھے پر آنحضرت کے لیے ایک شکن بھی آئی ہو۔بلکہ جب حضرت عائشہ آنحضرت کی اجازت سے اپنے باپ کے گھر آ گئیں تو یہی عشق تھا کہ عمرہ کے لیے جب آپ مکہ تشریف لے گئے تو صحابہ نے حضرت آپ نے حضرت عائشہ کو واپس رسول کریم کے گھر بجھوا دیا۔ہجرت کا وقت آیا تو آنحضرت کی یہ جدائی بھی حضرت ابو بکر" پر شاق گزری اور رونے لگے اور آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔روتے ہوئے فرمایا یا رسول اللہ مجھے اپنے آپ سے دور نہ کچھ یو۔حضور نے آپ کو اپنے ساتھ لے کر ہجرت فرمائی۔اس ہجرت کے موقعہ پر جب غار ثور کی طرف چلے تو ابو بکر سے کہا ” اے رسول خدا کے قائمقام بس حضور کا نام سننا تھا کہ حضرت ابوبکر رسول کریم کی محبت آپ کو ایک دم بھی چین نہ لینے دیتی تھی۔آنحضرت کی وفات کے بعدا یک مرتبہ حضرت عمرؓ سے فرمانے لگے کہ عمر ! آؤ حضرت ابو بکر کبھی حضور کے آگے چلتے۔کبھی پیچھے چلتے کبھی دائیں ہو جاتے اور کبھی ام ایمن کے ہاں چلیں کہ وہاں آنحضور اکثر جایا کرتے تھے۔وہاں پہنچے تو تینوں بائیں ہو جاتے حضور نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ آقا مجھے خیال آتا ہے کہ کوئی تعاقب میں آنحضرت کی یاد میں رونے لگ گئے اور دیر تک اس محبوب کی یاد میں روتے رہے۔نہ ہوا تو میں آپ کے دفاع کے لیے پیچھے ہو جاتا ہوں اور اسی نگرانی کے خیال سے میں آپ کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ آنحضرت کی فرقت کا غم ہی تھا جو حضرت ابوبکر کو آگے ہو جاتا ہوں اور خوف سے کبھی آپ کے دائیں ہوتا ہوں تو کبھی بائیں۔محبت لاحق ہوا اور اندر ہی اندر آپ کی جان کو پگھلا کر رکھ دیا۔مجھے بے خوف نہیں ہونے دیتی۔اور جب غار میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر نے سارے غار کی صفائی کی۔ہیں کہ : سارے سوراخ بند کیے کہ کوئی سانپ یا بچھو وغیرہ نہ ہو۔ایک سوراخ رہ گیا تو اس پر اپنا پاؤں رکھ دیا حضور اکرم حضرت ابو بکر کی ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر آرام کے لیے استراحت فرمانے لگے۔سوراخ میں سے ایک سانپ نے حضرت ابو بکر کے پاؤں پر ڈس لیالیکن حضرت ابوبکر نے تکلیف کے باوجود جنبش نہ کی کہ نبی اکرم کے آرام میں خلل نہ ہو۔شدت تکلیف ومحبت سے آنکھوں میں آنسو ٹپک پڑے تو آنحضرت کو حضرت ابو بکر خود اپنے محبوب آقا کی وفات اور جدائی کا تذکرہ اس طرح کرتے محبوب کی جدائی کے بعد اب زندگی کیسی اور اس کا کیا مزہ اے کاش ہم سب مرجاتے اور اپنے آقا کے ساتھ ہی ہوتے۔اے عقیق ہائے افسوس تیرا محبوب قبر میں ہے اور تو اکیلا حسرت زدہ آہیں بھر رہا ہے۔اے کاش میں ان سے پہلے مرجاتا اور مٹی کے نیچے قبر میں ہوتا۔