سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 6 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 6

7 6 پر بھی ہمارا تعاقب کیا اور ایک وفد نے آ کر حبشہ کے بادشاہ ( جو نجاشی کہلاتا اس وضاحت کے بعد نجاشی نے قریش کے وفد کے ساتھ ہمیں بھجوانے عل وسام تھا) کو ہمارے خلاف اکسایا نجاشی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔دشمنوں سے انکار کر دیا اور ہمیں وہیں امن سے رہنے کی اجازت دے دی۔ادھر نبوت نے اسے کہا کہ مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کے تیرھویں سال آنحضرت ﷺ کی اجازت سے لوگ مدینہ ( جو پہلے علیھا السلام اور عیسائی مذہب کو برا کہتے ہیں۔اور نجاشی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان میثرب کہلاتا تھا ) ہجرت کرنے لگے میں بھی ہجرت کر کے مدینہ پہنچ گیا اور باقی عرب مسلمانوں کو جوان کے مجرم ہیں واپس ان کے ساتھ بھیج دے۔ہمیں مہاجرین کے ساتھ قبا میں انصار کے خاندانوں کے ساتھ رہا انہوں نے ہماری نجاشی کے دربار میں طلب کیا گیا اور دینِ اسلام کے بارے میں پوچھا۔میں خوب مہمان نوازی کی حتی کہ آنحضرت علی بھی خود ہجرت کر کے اسی مقام ان لمحات کو کبھی بھول نہیں سکتا ہماری طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالب پر پہنچ گئے ہم نے بھی حضور کا انصار کے ساتھ مل کر استقبال کیا اور بعد میں نے اسلام کا تعارف کروایا اور سورۃ مریم کی چند آیات پڑھ کر حضرت عیسی اندرون شہر مدینہ میں منتقل ہو گئے اور اس طرح دو بار ہجرت کر کے مجھے علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارہ میں اسلامی نظریہ پیش فرمایا۔جسے سن کر مہاجرین کے اس گروہ میں شامل ہونے کا فخر ہے جن کے بارے میں کا نجاشی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔اس واقعہ کا ذکر ا جمالی طور پر قرآن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ دوہرے ثواب کے مستحق ہیں۔کریم میں بھی ملتا ہے۔جیسا کہ فرمایا:۔وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمُ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّاعَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ مؤاخاة انصار و مہاجرین جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے وہ مہاجرین کہلائے اور مدینہ کے جن مسلمانوں نے انہیں پناہ دی وہ انصار کے نام سے موسوم ہوئے۔(المائدہ 84) آنحضرت ﷺ نے انس بن مالک کے مکان پر انصار و مہاجرین کو اکٹھا اور جب وہ اس ( کلام الہی ) کو سنتے ہیں جو اس رسول پر اتارا گیا تو (اے مخاطب) تو دیکھتا ہے کہ جس قدر حق انہوں نے پہچان لیا ہے اس کی وجہ سے ان کی آنکھیں آنسوؤں (کے زور ) سے بہہ پڑتی ہیں وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے پس ہمارا نام ( بھی ) گواہوں کے ساتھ لکھ لئے“۔کر کے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کو آپس میں بھائی بھائی بنا کر انسانی ہمدردی اور اسلامی بھائی چارے کی بہترین مثال قائم فرمائی۔آنحضرت ﷺ نے مجھے سعد بن معاذ انصاری کا بھائی بنایا۔انصار نے مہاجرین کی تمام ضروریات کو پورا کیا اور بھائیوں سے بڑھ کر سلوک کیا سعد