سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 5 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 5

5 4 میرا تعلق قریش کے قبیلہ بنو خلج سے ہے۔بعض لوگ ہمیں فہر بن مالک کی ہے اس طرح میں حضرت عمر کا ہم عمر ہوں۔طرف منسوب کر کے فہری بھی کہتے ہیں۔میں زیادہ تر اپنے بیٹے اور دادا کی میرے خاندان میں سے میری والدہ کو بھی اسلام لانے کی سعادت نسبت سے ابو عبیدہ بن الجراح“ کے نام سے مشہور ہوں۔کیونکہ عربوں میں نصیب ہوئی اور ان کا شمار صحابیات میں ہوتا ہے۔تا ہم میرے والد اسلام اس قسم کی رسمیں جاری ہیں۔میں ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جنہیں لانے سے محروم رہے اور جنگ بدر میں میرے مقابل پر آکر میرے ہی آنحضرت ﷺ کی بعثت کے شروع شروع میں ہی اسلام قبول کرنے کی کی ہاتھوں مارے گئے۔مجھے السابقون الاولون اور عشرہ مبشرہ میں سے ہونے توفیق ملی۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب آنحضرت ﷺ نے دعویٰ نبوت کا فخر ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔فرمایا لیکن اسے اپنے ملنے جلنے والوں تک ہی محدود رکھا ہوا تھا۔صلى الله آنحضرت ﷺ کے گھر کے افراد میں سے حضور کی بیوی حضرت خدیجہ طاہرہ حضور کے چچازاد بھائی علی ( جو حضور کے پاس بچوں کی طرح رہ تکالیف کا دور اور ہجرت حبشہ و مدینہ اسلام لانے کے بعد مکہ میں کفار نے ہمیں بہت دُکھ پہنچائے جنہیں ہم رہے تھے ، حضور کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے زیڈ کے علاوہ حضور نے صبر سے برداشت کیا۔ہمیں ظلم کے مقابل پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔آنحضرت ﷺ نے ہمیں سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ ظلم کا مقابلہ ظلم سے نہ کے قریبی دوست حضرت عبداللہ بن ابوقحافہ (جو ابوبکر " کے نام سے مشہور ہوئے) سب سے پہلے ایمان لے آئے حضرت ابوبکر کی تبلیغ سے ان کرنا بلکہ عفو اور درگزر سے کام لینا۔چنانچہ میں نے بھی ایسے ہی کیا۔تاہم سنہ کے ملنے جلنے والوں میں سے حضرت عثمان بن عفانؓ ، حضرت عبدالرحمن بن 5 نبوی میں جب مظالم برداشت سے باہر ہو گئے تو آنحضرت ﷺ کی عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت طلحہ بن اجازت سے رجب میں حضرت عثمان غنی کی سرکردگی میں مسلمانوں کا ایک عبید اللہ جلد ہی ایمان لے آئے عورتوں میں سے آنحضرت ﷺ کی ایک قافلہ حبشہ ہجرت کر گیا۔جہاں حکومت کی طرف سے مذہبی آزادی تھی اور ہر چی حضرت ام فضل اور حضرت ابوبکر کی بیٹی حضرت اسماء جلد ایمان لے مذہب کا آدمی امن سے رہ سکتا تھا۔کچھ عرصے بعد ایک نسبتاً بڑا قافلہ دوبارہ آئیں۔انہیں دنوں میں مجھے بھی آنحضرت ﷺ کے مبارک ہاتھوں پر حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا میں اس دوسرے قافلے میں شامل تھا۔وہاں جا کر اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔جب میں مسلمان ہوا اس وقت میری عمر بھی ہمیں بہت آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔بھوک اور فاقے بھی برداشت کئے اٹھائیس (28) سال کی تھی۔میری اور حضرت عمر کی پیدائش ایک ہی سال کی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہاں ہمیں مذہبی آزادی تھی۔تا ہم قریش مکہ نے وہاں