حیات طیبہ

by Other Authors

Page 74 of 492

حیات طیبہ — Page 74

74 کوئی ہے نہیں اسے واپس لانے پر رضامندی کا اظہار کیا اور بحری جہاز پر اسے سوار کر دیا۔جب یہ خبر پنجاب میں مشہور ہوگئی کہ مہاراجہ صاحب واپس آرہے ہیں تو سکھوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔حضرت اقدس کو خدائے علام الغیوب نے بتایا کہ مہاراجہ دلیپ سنگھ پنجاب میں سکونت نہیں اختیار کر سکیں گے بلکہ اس سفر میں اُن کی عزت آسائش یا جان کا خطرہ ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب ان کا جہاز عدن پہنچا تو انگریزوں نے اُن کے پنجاب وارد ہونے سے خطرہ محسوس کر کے اُن کے جہاز کو واپس کر دیا اور اس طرح سے خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی خبر بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔اے سفر ہوشیار پور اور پیش گوئی مصلح موعود یوں تو حضرت اقدس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بڑا قیمتی تھا اور آپ نے دینی خدمات کے سلسلہ میں کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔اللہ تعالیٰ بھی آپ کی تعریف میں فرماتا ہے۔اَنتَ الشَّيْخُ المَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتَهُ کہ تو وہ بزرگ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے اپنی زندگی میں جو کام سرانجام دیئے میرا خیال ہے کہ اگر انہیں تفصیل کے ساتھ قلمبند کرنے کی کوشش کی جائے تو ہزاروں صفحات لکھے جا سکتے ہیں۔آپ کی زندگی کا ایک ایک واقعہ ہمارے لئے بیش بہا اسباق رکھتا ہے مگر ۱۸۸۶ ء کا سال عجیب وغریب واقعات اور آسمانی تائیدات کا سال تھا۔اوپر حضرت کے ایک اشتہار کا اقتباس درج کر کے بتایا جا چکا ہے کہ اس سال اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص تجلیات کے نظارے آپنے دیکھے۔آپ کو مختلف امور کے متعلق جناب الہی کی طرف سے آئندہ ہونے والے واقعات سے مطلع کیا گیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت اقدس کا مدت سے ارادہ تھا کہ آپ کسی ایسی جگہ جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح متواتر چالیس دن عبادت الہی اور دعا میں گزار ہیں۔جہاں آپ کو کوئی جانتا نہ ہو۔چنانچہ اس غرض کے لئے آپ نے پہلے ۱۸۸۴ء میں سو جان پور ضلع گورداسپور جانے کا ارادہ فرمایا۔مگر مشیت الہی کے ماتحت یہ سفر ملتوی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی سے چنانچہ جنوری ۱۸۸۶ء میں آپ عازم ہوشیار پور ہوئے اس سفر میں حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری ، حضرت شیخ حامد علی صاحب اور میاں فتح خاں صاحب آپ کے ساتھ بطور خادم تھے۔ہوشیار پور پہنچ کرحضور نے شیخ مہر علی صاحب رئیس کے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا۔چونکہ براہین احمدیہ کی اشاعت کی وجہ سے آپ کی لے دیکھئے اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ ۳ رمئی ۱۸۸۶ء سے سیرت المہدی جلد اول روایت ۸۸ سے خاکسار مولف عرض کرتا ہے کہ وہ مکان جس میں حضور نے قیام فرمایا تھا۔اب ہندو اس کے قبضہ میں ہے۔قابض ہندوؤں نے سارے مکان میں تبدیلی پیدا کردی ہے۔مگر اس کمرہ کو جس میں حضورنے چلہ کشی کی تھی بغیر کسی تبدیلی کے یوں ہی رہنے دیاہے اور کبھی کبھی اس میں اپنے طور پر دعا کیا کرتے ہیں۔