حیات طیبہ — Page 69
69 حضرت اقدس اس وقت کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے اور منہ مبارک پر اپنا ہاتھ کہنی کی جگہ سے رکھا ہوا تھا۔میرے دل میں اس وقت بڑے سرور اور ذوق سے یہ خیالات موجزن تھے کہ میں کیا خوش نصیب ہوں کیا ہی عمدہ موقعہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے کہ مہینوں میں مہینہ مبارک رمضان شریف کا ہے اور تاریخ بھی جو ۲۷ ہے مبارک ہے اور عشرہ بھی مبارک ہے اور دن بھی جمعہ ہے جو نہایت مبارک ہے اور جس شخص کے پاس بیٹھا ہوں وہ بھی نہایت مبارک ہے۔اللہ اکبر! کس قدر برکتیں آج میرے لئے جمع ہیں۔اگر خداوند کریم اس وقت کوئی نشان حضرت اقدس کا مجھے دکھلاوے تو کیا بعید ہے۔میں اسی سرور میں تھا اور پاؤں ٹخنہ کے قریب سے دبارہا تھا کہ یکا یک حضرت اقدس کے بدن مبارک پر لرزہ سا محسوس ہوا اور اس لرزہ کے ساتھ ہی حضور نے اپنا ہاتھ مبارک منہ پر سے اُٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔شاید جاری بھی تھے اور پھر اسی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر لیٹے رہے جب میری نظر طحنہ پر پڑی تو ایک قطرہ سُرخی کا جو پھیلا ہوا نہیں بلکہ بستہ تھا۔مجھے دکھلائی دیا۔میں نے اپنی شہادت کی انگلی کا سرا اُس قطرہ پر رکھا تو وہ پھیل گیا۔اور سُرخی میری انگلی کو بھی لگ گئی اس وقت میں حیران ہوا اور میرے دل میں یہ آیت گذری۔صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صبغة۔نیز یہ بھی دل میں گذرا کہ اگر یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں شاید خوشبو بھی ہو۔چنانچہ میں نے اپنی انگلی سونگھی مگر خوشبو وغیرہ کچھ نہ تھی۔پھر میں محنہ کی طرف سے کمر کی طرف دبانے لگا تو حضرت اقدس کے گرتہ پر بھی چند داغ سُرخی کے گیلے گیلے دیکھے۔مجھ کو نہایت تعجب ہوا اور میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا اور حجرہ کی ہر جگہ کو نہایت اچھی طرح دیکھا۔مگر مجھے سرخی کا کوئی نشان حجرہ کے اندر نہ ملا۔آخر حیران سا ہو کر بیٹھ گیا اور بدستور پاؤں دبانے لگ گیا۔حضرت صاحب منہ پر ہاتھ رکھے لیٹے رہے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور اُٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر مسجد مبارک میں آکر بیٹھ گئے۔یہ عاجز بدستور پھر کمر وغیرہ دبانے لگ گیا۔اس وقت میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور یہ سُرخی کہاں سے گری۔پہلے تو ٹال دیا پھر اس عاجز کے اصرار پر وہ سارا واقعہ بیان فرما دیا۔جس کو حضرت اقدس تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج فرما چکے ہیں مگر بیان کرنے سے پہلے اس عاجز کو رویت باری تعالیٰ کا مسئلہ اور کشفی امور کا خارج میں وجود پکڑنا حضرت محی الدین ابن عربی کے واقعات سنا کر خوب اچھی طرح لے دیکھیں سرمہ چشم آریہ صفحہ ۱۳۱، ۱۳۲ دوغیرہ وغیرہ