حیات طیبہ

by Other Authors

Page 61 of 492

حیات طیبہ — Page 61

61 نواب صاحب کو جب اپنے اس قصور کا احساس ہوا تو انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بڑے انکسار کے ساتھ بذریعہ خط دُعا کی درخواست کی۔حضرت فرماتے ہیں : ” تب میں نے اس کو قابلِ رحم سمجھ کر اس کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا که سرکوبی سے اس کی عزت بچائی گئی آخر کچھ مدت کے بعد ان کی نسبت گورنمنٹ کا حکم آگیا کہ صدیق حسن خاں کی نسبت نواب کا خطاب قائم رہے۔1 براہین احمدیہ کا التوا کہ: براہین احمدیہ کا حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔اس حصہ کے آخر میں آپ نے یہ اطلاع شائع فرمائی ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی۔اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی محلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی۔جس سے پہلے خبر نہ تھی۔یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّي انار بک کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔سو اب اس کتاب کا متوئی اور مہتمم ظاہر و باطنا حضرت ربّ العالمین ہے۔‘۲ چنانچہ دعوی مجددیت اور ماموریت کے بعد الہی منشاء کے ماتحت تئیس سال تک براہین احمدیہ کے اگلے حصوں کی اشاعت معرض التوا میں رہی۔آخر ۱۹۰۵ء میں اس کا پانچواں اور آخری حصہ شائع ہوا جو گو سابقہ مضمون کے تسلسل میں نہیں تھا۔لیکن اس لمبے عرصہ میں براہین احمدیہ کے پہلے چار حصوں میں درج شدہ پیشگوئیاں جو پوری ہوئی تھیں ان کا ذکر کر کے حضور نے ایک رنگ میں اُسے سابقہ حصص سے مربوط بھی کر دیا۔مجددیت اور ماموریت کے بارہ میں پہلا الہام براہین احمدیہ کے چاروں حصوں کا ذکر یکجائی طور پر کرنے کی وجہ سے ہم نے درمیانی واقعات کو چھوڑ دیا تھا۔لہذا اب ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ل تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۷ ۲، ہم اور ہماری کتاب آخری صفحہ براہین احمدیہ حصہ چہارم