حیات طیبہ — Page 60
60 جہاں بیگم صاحبہ سے شادی کر لینے کی وجہ سے ان کی شہرت میں خاصہ اضافہ ہو گیا تھا۔آپ نے دینی کتابوں کی اشاعت کے لئے بھی خاص جدو جہد کی تھی۔اس لئے حضرت اقدس نے آپ کو ایک در ددل رکھنے والا مسلمان سمجھ کر براہین احمدیہ کی اشاعت میں حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی۔حضرت کی تحریک پر پہلے تو انہوں نے پندرہ ہیں جلدوں کی خرید پر آمادگی کا اظہار کیا۔مگر پھر دوبارہ یاد دہانی پر گورنمنٹ انگریزی کے خوف کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا اور براہین احمدیہ کا پیکٹ جو انہیں پہنچ چکا تھا اُسے چاک کر کے واپس بھیج دیا۔آپ کے ایک مرید حافظ حامد علی صاحب کا بیان ہے کہ جب کتاب واپس آئی تو اس وقت حضرت اقدس اپنے مکان میں چہل قدمی کر رہے تھے کتاب کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ پھٹی ہوئی ہے اور نہایت بُری طرح اس کو خراب کیا گیا ہے۔حضرت کا چہرہ مبارک متغیر اور غصہ سے سُرخ ہو گیا۔عمر بھر میں حضرت کو ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔آپ کے چہرہ کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ میں غیر معمولی ناراضگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔آپ بدستور ادھر ادھر ٹہلتے رہے اور خاموش تھے کہ یکا یک آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے : اچھا۔تم اپنی گورنمنٹ کو خوش کر لو“ نیز یہ دعا کی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔اس کے بعد جب براہین احمدیہ کا چوتھا حصہ حضور نے تحریر فرمایا تو اس میں بھی حضرت نے نواب صاحب کے اس خلاف اخلاق فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاہ خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے ) 1 حضرت اقدس کی اس تحریر کے چند ہی ماہ بعد اسی گورنمنٹ انگریزی نے جس کی خوشنودی کی خاطر نواب صاحب نے براہین احمدیہ کی خریداری سے انکار کیا تھا۔آپ پر ایک سیاسی مقدمہ بنایا۔نوابی کا خطاب آپ سے چھین لیا۔جس کی وجہ سے نواب صاحب کو اس حد تک پریشان ہونا پڑا کہ الامان والحفیظ۔ان مصائب سے نکلنے کے لئے انہوں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے لیکن کوئی کوشش کارگر نہ ہوئی۔اس کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں: نواب صاحب صدیق حسن خاں پر جو یہ ابتلاء پیش آیا۔وہ بھی میری ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔انہوں نے میری کتاب براہین احمدیہ کو چاک کر کے بھیج دیا تھا۔میں نے دُعا کی تھی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔۲۔ا ضمیمہ اشتہار براہین احمدیہ حصہ چہارم سے تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۷