حیات طیبہ — Page 32
32 دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا۔اس نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے ان خیالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا۔کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے اگر چہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقررتھا اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی۔مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔عمر بگذشت و نماندست جزایا می چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔از در تو اے کس ہر بیکسے ☆ اور کبھی در ددل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔نیست امیدم که روم ناامید بآب دیدہ عشاق و خاکپائے کیسے ہو مراد لے ست کہ درخوں تپد بجائے کسے لے ریاست کپورتھلہ کے سررشتہ تعلیم کی افسری سے انکار آپ کی سیالکوٹ سے واپسی کے کچھ عرصہ بعد آپ کو ریاست کپورتھلہ کی طرف سے سررشتہ تعلیم کی افسری کی پیشکش کی گئی۔جس سے انکار کرتے ہوئے آپ نے اپنے والد صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ: میں کوئی نوکری کرنی نہیں چاہتا ہوں۔دو جوڑے کھدر کے کپڑوں کے بناد یا کرو اور روٹی جیسی بھی ہو بھیج دیا کرو۔“ آپ کے والد ماجد نے جن کی زندگی میں اب نمایاں تغیر پیدا ہو چکا تھا۔اپنے بیٹے کا یہ جواب سنا تو ایک شخص میاں غلام نبی کو نہایت رفت بھرے دل کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔لے ”میاں غلام نبی ! میں خوش تو اسی پر ہوں۔کچی راہ تو یہی ہے جس پر یہ چل رہا ہے۔“ ہے کتاب البریه طبع دوم صفحه ۱۵۵ و ۱۵۶ سے حیات النبی جلد اوّل نمبر دوم صفحه ۱۸۵