حیات طیبہ — Page 31
31 صدمہ عظیم کو برادشت کیا۔پیچھے گذر چکا ہے کہ آپ کے والد ماجد آپ کو دنیوی مشاغل میں حصہ نہ لینے اور دینی کتب کے مطالعہ میں مصروف رہنے کی وجہ سے ملاں“ کہہ کر پکارا کرتے تھے مگر اس کے برعکس آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ کی نیکی ، تقویٰ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی وجہ سے شدید محبت تھی اور ذرا ذراسی بات پر آپ پر سو جان سے قربان ہو جایا کرتی تھیں۔اور آپ کی ہر قسم کی ضرورتوں کا خیال رکھتی تھیں۔حضرت اقدس کی اپنی والدہ ماجدہ سے محبت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی وفات کے بعد آپ جب کبھی ان کا ذکر فرماتے تو آپ کی آنکھوں سے آنسورواں ہو جاتے تھے۔آپ کے سوانح نگار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ کا چشمد ید بیان ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مرتبہ سیر کی غرض سے اپنے پرانے خاندانی قبرستان کی طرف نکل گئے۔راستہ سے ہٹ کر آپ ایک جوش کے ساتھ اپنی والدہ صاحبہ کے مزار پر آئے اور اپنے خدام سمیت ایک لمبی دعافرمائی اور چشم پر آب ہو گئے۔اے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ کی تاریخ وفات کی ابھی تک تعیین نہیں ہوسکی تاہم یہ سچی بات ہے کہ آپ کی وفات کا سن ۱۸۶۸ ء ہی ہے۔آپ کا مزار مبارک حضرت اقدس کے قدیم خاندانی قبرستان میں جو قادیان کے مغرب کی طرف عید گاہ کے ساتھ واقع ہے موجود ہے۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کا اُمور آخرت کی طرف رجمان حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے ابتداء میں اپنی جڑی جائداد کے حصول کے لئے جب مقدمات میں قدم رکھا تھا تو انہیں اپنی کامیابی پر کامل یقین تھا۔لیکن جب ایک لمبا عرصہ ان مقدمات کی کشمکش میں اُلجھنے کے بعد آپ کو اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی اور مقبوضہ جائیداد اور جمع شدہ سرمایہ بھی غارت ہوتا دکھائی دیا توسخت غمگین رہنے لگے۔اپنی رفیقہ حیات کی جدائی کا غم مزید برآں تھا۔حضرت اقدس ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”میں جب اپنے والد صاحب کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔مگرا اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا اور والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا۔جس کا انجام آخر نا کا می تھا۔کیونکہ ہمارے بزرگوں کے لہ حیات احمد جلد اوّل نمبر دوم صفحه ۱۴۳