حیات طیبہ — Page 436
436 ثُمَّ الرَّحِيلُ وَالْمَوْتُ قَرِیب یعنی کوچ کا وقت آ گیا ہے۔ہاں کوچ کا وقت آ گیا ہے اور موت قریب ہے۔“ یہ الہام صراحت کے ساتھ حضور کی وفات کے بالکل قریب ہونے پر دلالت کرتا تھا۔اس لئے حضور نے اس کی کوئی تاویل نہیں فرمائی۔یکے بعد دیگرے اس قسم کے الہامات کو دیکھ کر حضرت اماں جان نے ایک دن گھبرا کر عرض کی۔کہ اب قادیان واپس چلیں۔فرمایا۔اب تو ہم اس وقت چلیں گے جب خدا لے جائے گا۔‘، حضور ان ایام میں پیغام صلح کی تقریر لکھنے میں مصروف تھے۔اس الہام کے بعد تقریر کے لکھنے میں حضور نے زیادہ کوشش اور تیزی اختیار فرمائی۔آخر کار ۲۵ مئی کی شام کو یہ مضمون قریباً مکمل کر کے کاتب کے سپر دفرما دیا۔قرائن سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے یہ سمجھ کر کہ یہ مضمون لکھنے کے لئے آج کے بعد موقعہ ملے یا نہ ملے۔اپنے بقیہ نوٹوں پر کچھ لکھنا ملتوی فرما کر جتنا لکھا جا چکا تھا۔وہ کاتب کے حوالے کر دیا۔عصر کی نماز کے بعد حضور نے وفات مسیح کے بارہ میں ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔جو حضور کی آخری تقریر تھی اور پھر حسب معمول سیر کے لئے باہر تشریف لائے۔کرایہ کی ایک گاڑی حاضر تھی۔حضور نے ایک مخلص مُرید حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سے فرمایا کہ اس گاڑی کے والے سے کہہ دیں۔کہ ہم صرف ایک گھنٹہ ہوا خوری کر کے واپس آنا چاہتے ہیں۔وہ ہمیں صرف اتنی دور لے جائے کہ ہم اس وقت کے اندر اندر گھر واپس پہنچ جائیں۔چنانچہ حضور کے اس حکم کی تعمیل کی گئی اور آپ ہوا خوری کر کے واپس تشریف لے آئے۔اس وقت حضور کو کوئی خاص بیماری نہیں تھی۔صرف مسلسل مضمون لکھنے کی وجہ سے کسی قدر ضعف تھا اور غالبا آنے والے منفی اثر کے ماتحت ایک گونہ ربودگی اور انقطاع کی کیفیت طاری تھی۔آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں اور پھر تھوڑ اسا کھانا تناول فرما کر آرام کے لئے لیٹ گئے۔ایک ایمان افزار وایت خاکسار راقم الحروف نے حضرت اقدس کے کئی پرانے صحابہ سے یہ روایت سنی ہے جن میں حضرت بابو غلام محمد صاحب فورمین لاہوری اور حضرت میاں عبدالعزیز مغل کا نام خاص طور پر یاد ہے کہ ایک دفعہ جب کہ حضور لاہور تشریف لائے۔ہم چند نو جوانوں نے یہ مشورہ کیا۔کہ دوسری قوموں کے بڑے بڑے لیڈر جب یہاں آتے ہیں۔تو ان کی قوموں کے نو جوان گھوڑوں کی بجائے خود ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں۔اور ہمیں جولیڈ ر اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔یہ اتنا جلیل القدر ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس کے مقابل میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے پس آج گھوڑوں کی بجائے ہمیں ان کی گاڑی کھینچنی چاہئے۔چنانچہ ہم نے گاڑی والے کو کہا کہ اپنے گھوڑے الگ کر لو۔آج گاڑی ہم ه بدر جلد نمبر ۲۲ ۲ سلسلہ احمدیہ صفحه ۱۸۲ ے گاڑی پر کو چوان کیسا تھ والی سیٹ پر میاں شادی خاں صاحب مرحوم بیٹھے تھے اور گاڑی کے پچھلے پائیدان پر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بطور محافظ کھڑے تھے۔