حیات طیبہ

by Other Authors

Page 421 of 492

حیات طیبہ — Page 421

421 حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی علالت ۲۱ / اگست ۱۹۰۷ء ۱۸۹۹ء کے حالات میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب جو حضرت اقدس کے سب سے چھوٹے فرزند تھے اور ۱۴ / جون ۱۸۹۹ ء کو پیدا ہوئے تھے۔نہایت ہی پاک شکل اور پاک خُو تھے۔آٹھ برس سے کچھ زیادہ عمر تھی۔۲۱ اگست ۱۹۰۷ ء کو بعارضہ بخار بیمار ہو گئے اور ایسا سخت بخار چڑھا کہ بعض اوقات بیہوشی اور سرسام تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔حضرت اقدس نے ان کی شفایابی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور بہت ہی درد و الحاح کیساتھ دُعا کی۔جس پر ۲۷ اگست ۱۹۰۷ء یعنی ساتویں روز اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما بتایا کہ قبول ہو گئی۔کو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی دو دن اور بخار رہے گا اور پھر ٹوٹ جائے گا۔چنانچہ پورے نو دن کے بعد دسویں روز یعنی ۳۰ / اگست ۱۹۰۷ ء کو حضرت صاحبزادہ صاحب کا بخار بالکل ٹوٹ گیا اور صاحبزادہ صاحب کی طبیعت ایسی تندرست ہوگئی کہ آپ باغ کی سیر کرنے چلے گئے۔نکاح صاحبزادہ مبارک احمد ۳۰ اگست ۱۹۰۷ء حضرت اماں جان کو چونکہ حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کی بچی مریم بیگم بہت پسند آ گئی تھیں۔اس لئے آپ چاہتی تھیں کہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے صاحبزادہ مبارک احمد کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا جائے اور اس طرح انہیں بچپن سے ہی اپنی فرزندی میں لے لیا جائے۔ادھر حضرت اقدس کا یہ معمول تھا کہ آپ حضرت اماں جان کی خواہشات کا از حد احترام فرماتے تھے۔آپ نے حضرت ڈاکٹر صاحب کی رضامندی سے اس نکاح کی اجازت فرما دی اور ۳۰ اگست ۱۹۰۷ ء کو صاحبزادہ مبارک احمد کا خطبہ نکاح حضرت مولاناحکیم نورالدین صاحب نے بعد نماز عصر پڑھ دیا۔اسی خطبہ نکاح میں حضرت مولانا نورالدین صاحب نے اپنے لڑکے میاں عبدالحئی صاحب کے نکاح کا بھی اعلان فرمایا۔جو حضرت پیر منظور محمد صاحب کی لڑکی حامدہ بیگم کے ساتھ قرار پایا تھا۔وفات صاحبزادہ مبارک احمد صاحب ۱۶ رستمبر ۱۹۰۷ء نکاح کے بعد تیرہ دن تک تو صاحبزادہ صاحب کی طبیعت اچھی رہی۔مگر پھر چودھویں روز یعنی ۱۴ ستمبر ۱۹۰۷ ء کو اچانک بیمار ہو گئے۔اس روز حضرت اقدس کو الہام ہوا لا علاج وَلَا يُحْفَظ ، یعنی اب اس کا کوئی علاج نہیں اور یہ نہیں بچے گا۔چنانچہ دودن کے بعد ہی ۶ار تمبر 19 ءکوصاحبزادہ مبارک احمد وفات پاگئے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔