حیات طیبہ

by Other Authors

Page 22 of 492

حیات طیبہ — Page 22

22 جگا یا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروانہ کی۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے اُن کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا۔اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جا پڑی اور سب بیچ گئے۔قیام سیالکوٹ کے بعض حالات چوبارہ کے گرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ کشمیری محلہ میں رہے اور پھر آخر تک سیالکوٹ کی جامع مسجد کے سامنے حکیم منصب علی صاحب وثیقہ نویس کے ہمراہ ایک بیٹھک میں وقت گزارا۔کشمیری محلہ میں آپ میاں فضل دین صاحب کے چھوٹے بھائی عمرانا می کشمیری کے مکان پر رہا کرتے تھے۔خود راقم الحروف کو غالبا ۱۹۴۰ء میں اس مکان کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔میاں فضل دین صاحب کے عزیزوں میں سے کسی نے مجھے بتایا کہ حضرت صاحب کے متعلق مشہور ہے کہ آپ جب کچہری سے واپس تشریف لاتے تھے تو دروازہ میں داخل ہونے کے بعد دروازہ کو پیچھے مڑ کر بند نہیں کرتے تھے تا کہ گلی میں اچانک کسی نامحرم عورت پر نظر نہ پڑے بلکہ دروازہ میں داخل ہوتے ہی دونوں ہاتھ پیچھے کر کے پہلے دروازہ بند کر لیتے تھے اور پھر پیچھے مُڑ کر زنجیر لگایا کرتے تھے۔گھر میں سوائے قرآن مجید پڑھنے اور نمازوں میں لمبے لمبے سجدے کرنے کے اور آپ کا کوئی کام نہ تھا۔بعض آیات لکھ کر دیواروں پر لٹکا دیا کرتے تھے اور پھر ان پر غور کرتے رہتے تھے۔بعض اوقات دفتری کاموں کے لئے بعض زمیندار مکان پر آکر ملنے کی خواہش کرتے تو آپ میاں فضل دین صاحب کو فر ما یا کرتے کہ میاں فضل دین۔ان کو کہہ دو کہ میں تمہارا کام کچہری میں ہی کر دیا کروں گا۔یہاں آکر یاد کروانے کی ضرورت نہیں۔خدمت خلق کا جذبہ بھی آپ کے دل میں بہت بڑھا ہوا تھا۔مہینہ بھر ملازمت کرنے کے بعد جو تنخواہ آپ دفتر سے لاتے اس میں سے خوارک وغیرہ کا معمولی خرچ رکھ کر باقی رقم میں سے محلہ کی بیواؤں اور محتاجوں کو کپڑے بنوا دیتے یا نقدی کی صورت میں تقسیم فرما دیتے۔سے علم طب سے بھی آپ کو کافی واقفیت تھی۔جو مریض آتا۔آپ اس کا علاج بھی کرتے اور اس کی شفا کے لئے جناب الہی میں دُعا بھی فرماتے۔ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عزائم اور سیالکوٹ کا اس میں حصہ ء کے غدر کے بعد انگریزوں نے اس امر کو پوری طرح محسوس کر لیا تھا کہ اگر ہم اپنی حکومت اور له سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۲۳۶ سے سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۹۴