حیات طیبہ — Page 385
385 حضور کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ: قرآن شریف میں عادت اللہ ہے کہ بعض جگہ تفصیل ہوتی ہے اور بعض جگہ اجمال سے کام لیا جاتا ہے اور پڑھنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مجمل آیتوں کے ایسے طور سے معنی کرے کہ آیات مفصلہ سے مخالف نہ ہو جائیں مثلاً خدا تعالیٰ نے تصریح سے فرما دیا کہ شرک نہیں بخشا جائے گا۔مگر قرآن شریف کی یہ آیت کہ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا۔اس آیت سے مخالفت معلوم ہوتی ہے جس میں لکھا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا۔پس یہ الحاد ہوگا کہ اس آیت کے وہ معنی کئے جائیں کہ جو آیات محکمات بینات کے مخالف ہیں۔اور آیات مندرجہ بالا کے متعلق فرمایا کہ ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے۔نجات ہو سکتی ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی اور اللہ پر پورا ایمان تبھی ہوسکتا ہے کہ اس کے رسولوں پر ایمان لاوے۔وجہ یہ ہے کہ وہ اُس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اس کی صفات کے بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالیٰ ناقص رہ جاتی ہے۔کیونکہ مثلاً یہ صفات اللہ تعالیٰ کے کہ وہ بولتا ہے۔سنتا ہے۔پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔رحمت یا عذاب کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔بغیر اس کے کہ رسول کے ذریعہ سے ان کا پتہ لگے کیونکر ان پر یقین آسکتا ہے اور اگر یہ صفات مشاہدہ کے رنگ میں ثابت نہ ہوں تو خدائے تعالیٰ کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا۔تو اس صورت میں اس پر ایمان لانے کے کیا معنی ہوں گے اور جو شخص خدا پر ایمان لاوے۔ضرور ہے کہ اس کے صفات پر بھی ایمان لاوے اور یہ ایمان اس کونبیوں پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرے گا۔کیونکہ مثلاً خدا کا کلام کرنا اور بولنا بغیر ثبوت خدا کے کلام کے کیونکر سمجھ آسکتا ہے اور اس کلام کو پیش کرنے والے مع اس کے ثبوت کے صرف نبی ہیں۔“ سے اور حضور نے اس امر کے ثبوت میں کہ قرآن کریم کی رُو سے صراحت کے ساتھ انبیاء پر ایمان لانا واجب ہے۔سولہ آیات پیش کی ہیں۔س مثال کے طور پر پانچ آیتیں ان میں سے درج ذیل ہیں: ا قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ - ( سورة النور آیت ۵۵) ترجمہ: کہہ خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور یہ مسلم اور بد یہی امر ہے کہ خدا کے احکام سے مخلف لے حاشیہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۹ کے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۸ - ۱۶۹ سے حقیقۃ الوحی صفحه ۱۲۴ تا ۱۳۰