حیات طیبہ — Page 384
384 شادی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن ۱۰ مئی ۱۹۰۹ء قبل از میں لکھا جا چکا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا نکاح ۱۲؍ ستمبر ۱۹۰۲ء کو حضرت مولانا غلام حسن خاں صاحب سب رجسٹرار پشاوری کی دختر نیک اختر سرور سلطانہ صاحبہ سے ہوا تھا۔لیکن شادی ابھی تک تکمیل پذیر نہیں ہوئی تھی۔اب مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۶ ء کو حضرت میر ناصر نواب صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ، حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب، جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور بعض دیگر احباب پر مشتمل برات پشاور گئی اور ۱۶ رمئی ۱۹۰۶ ء کو واپس قادیان پہنچ گئی۔ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کا جماعت احمدیہ سے اخراج ۱۹۰۶ ء ڈاکٹر عبدالحکیم خاں جو ضلع کرنال کے ایک گاؤں تر اوڑی کے باشندہ اور حضرت اقدس کی بیعت میں داخل تھے اور اپنی تصنیفات تفسیر القرآن وغیرہ میں حضور کی تائید میں مضامین بھی لکھ چکے تھے۔قرآن شریف کی بعض آیات کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر اس فاسد عقیدہ میں مبتلا ہو گئے کہ نجات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا نجات کا ایک آسان ذریعہ تو ہے، لیکن یہ درست نہیں کہ بغیر آپ پر ایمان لائے نجات نہیں ہو سکتی اگر کوئی شخص تو حید کو مانے اور اپنے طور پر نیک اعمال بجالائے اور خدمت خلق کا فرض انجام دے تو وہ بھی ضرور نجات پائے گا۔حضرت اقدس کو جب ڈاکٹر صاحب کے اس عقیدہ کی اطلاع ہوئی تو حضور نے انہیں خطوط کے ذریعہ سے سمجھایا لیکن وہ اپنے خیال میں ترقی ہی کرتے چلے گئے۔اس پر آپ نے انہیں اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔جو آیات وہ اپنے عقیدہ کی صحت کے ثبوت میں قرآن کریم میں سے پیش کیا کرتے تھے وہ یہ ہیں: اوّل: اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَهم دوم: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يحزنون - سوم : تَعَالَوْا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ - حضرت اقدس نے اپنی مشہور کتاب حقیقۃ الوحی سے میں ان آیات کی صحیح تفسیر بیان فرمائی ہے جس کا خلاصہ ل بقره: ۶۳ بقره: ۱۱۳ سے ال عمران : ۶۵ سے دیکھئے صفحہ ۱۶۸