حیات طیبہ

by Other Authors

Page 360 of 492

حیات طیبہ — Page 360

360 یقینا یقیناً زندگی بھر وہ خطرناک اور مہیب نظارے ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکتے۔جن دنوں کوئٹہ کا زلزلہ آیا تھا۔خاکساران دنوں کراچی میں مقیم تھا۔گرمی کی رخصتوں کے دن تھے۔کوئٹہ کے اکثر لوگ تو موت کا شکار ہو ہی چکے تھے۔مگر جو بچے کھچے زخمی تھے ان کا ایک حصہ کراچی میں لایا گیا تھا۔وہ نظارہ ایسا ہولناک تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔کسی کے بازو کٹے ہوئے۔کسی کی پیٹھ زخمی کسی کا چہرہ جھلسا ہوا۔غرضیکہ اکثر لوگوں کی حالت نہایت ہی نا گفتہ بہ تھی۔کچھ نو جوان عورتیں اور بچے صحیح و سالم بھی آگئے تھے مگر وہ بھی یہ کہ کرزارزار روتے تھے کہ ہمارا کوئی رشتہ دار نہیں بچا۔سب کے سب زلزلہ کی نذر ہو گئے ہیں۔یقیناوہ نظارہ اتنا دردناک تھا کہ میں اب بھی جب اس کا تصور کرتا ہوں تو قیامت کا سماں آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔زلز ای عظیمہ کا وقت پیچھے کر دیا گیا زلزله موعودہ یا زلزله عظیمہ گو حضرت اقدس کی زندگی میں ہی آنے والا تھا مگر اس کی متوقع ہلاکت خیزیوں اور تباہیوں کی وجہ سے حضرت اقدس نے یہ دعا کی کہ یہ زلزلہ عظیمہ حضور کی زندگی میں نہ آئے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: رَبِّ آخِرُ وَقْتَ هَذَا۔یعنی اے میرے خدا! یہ زلزلہ جو نظر کے سامنے ہے۔اس کا وقت کچھ پیچھے ڈال دے۔‘ا۔اس کے بعد دوسرے روز ہی آپ کو الہاما بتایا گیا کہ رَخَرَهُ اللَّهُ إِلى وَقْتِ مُسَمًّى ( یعنی اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک معین عرصہ کے لئے پیچھے ڈال دیا ہے ) فرمایا۔چھوٹے چھوٹے زلزلے تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن سخت زلزلہ جو آنے والا ہے اُس کے وقت میں تا خیر ڈالی گئی ہے، مگر نہیں کہہ سکتے کہ تاخیر کتنی ہے۔‘ہے حضور کا وصال ۱۹۰۸ء میں ہوا اور اس زلزلہ عظیمہ کی ابتداء جنگ عظیم کی شکل میں پہلی بار ۱۹۱۳ ء میں ہوئی اور متواتر چار سال تک دنیا نے اس کی ہولنا کیوں کا مشاہدہ کیا۔جب متحارب قو میں لڑتے لڑتے تھک گئیں تو کچھ عرصہ کے لئے جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر کے نئی تیاریوں اور ہلاکت خیز ہتھیاروں کی ایجاد میں مصروف ہو گئیں۔چنانچہ ۱۹۳۹ ء میں دوسری بار آپس میں گھتم گتھا ہوگئیں۔۱۹۴۵ ء میں اس جنگ کا بھی عارضی طور پر خاتمہ ہو گیا اور اس کے بعد تو سائنسی ایجادات نے اس قدر ترقی کی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر دنیا کے قیام کی متقاضی نہ ہو تو چند لمحوں میں دنیا کی صف لپیٹی جاسکتی ہے۔مگر ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک نیا انقلاب لانا چاہتا ہے اور اپنے له الهام ۲۷ مارچ ۱۹۰۶ ء مندرجه تذکره صفحه ۵۹۹،۵۹۸ - ۲ الهام ۲۸ / مارچ ۱۹۰۶ ء مندرجه تذکره صفحه ۵۹۹