حیات طیبہ

by Other Authors

Page 329 of 492

حیات طیبہ — Page 329

329 ہر قسم کے نوٹ دیئے جاسکتے تھے۔مجسٹریٹ نے یہ خیال کیا۔شاید خواجہ صاحب کو اس بات کا علم نہ ہو۔اس لئے انہوں نے کہا کہ خواجہ صاحب! آپ کے نوٹوں پر لاہور یا کلکتہ نہیں لکھا ہوا۔لہذا ہم انہیں قبول نہیں کرتے۔خواجہ صاحب فور ابولے۔آپ لکھ دیں کہ سات سو روپے کے نوٹ پیش کئے گئے ،مگر چونکہ وہ مدراس، کراچی کے تھے اس لئے عدالت نے وہ قبول نہیں کئے۔اب بھلا وہ کیسے انکار کر سکتے تھے۔ناچارا نہیں وہ نوٹ قبول کرنے پڑے اور بصد حسرت حضرت اقدس اور حضرت حکیم صاحب کو عدالت سے باہر جانے کی اجازت دینی پڑی۔اس کے بعد فیصلہ کی نقول لینے اور سامان وغیرہ سنبھالنے کے لئے حضرت اقدس دو دن اور گورداسپور میں ٹھہرے اور پھر تیسرے روز ۱۱ اکتوبر کو واپس قادیان تشریف لے گئے۔ایک تاریخی غلطی کی اصلاح اس مقدمہ کے ضمن میں جس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ایک دفعہ گورداسپور میں آپ پر فریق ثانی کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا آپ کی شان اور آپ کا رتبہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تحفہ گولڑویہ سمیں لکھا ہے؟ اس سوال کا حضرت اقدس نے اثبات میں جواب دیا تھا۔حضرت اقدس نے اس واقعہ کا ذکر حقیقۃ الوحی سے میں کیا ہے مگر وہاں سہوا تحفہ گولڑویہ کی بجائے تریاق القلوب لکھا گیا ہے۔تریاق القلوب چونکہ ۱۹۰۱ ء سے پہلے کی کتاب ہے اور حضرت اقدس نے اس میں اپنے آپ کو جزوی نبی کہا ہے اس لئے غیر مبائعین اس حوالہ کو بار بار پیش کرتے ہیں حالانکہ حضرت اقدس سے سوال تحفہ گولڑویہ کے متعلق کیا گیا تھا۔نہ کہ تریاق القلوب کے متعلق۔سے اس فیصلہ کے خلاف اپیل حضرت اقدس کو چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع مل چکی تھی کہ آپ عدالت عالیہ سے بڑی کئے جائیں گے۔اس لئے آپ نے خواجہ صاحب سے فرمایا کہ خواجہ صاحب بہت جلدا پیل داخل کیجئے۔خواجہ صاحب نے حکم کی تعمیل کی اور لالہ آتما رام کے فیصلہ کے خلاف مسٹر ہیری سشن حج امرتسر کی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔۲۶ نومبر ۱۹۰۴ ء کچی پیشی کے لئے تاریخ مقرر ہوئی۔وجوہ اپیل پر غور کر کے سشن جج نے ۶ / جنوری ۱۹۰۵ء کی تاریخ مقرر کر دی اور فریق ثانی کے نام نوٹس جاری کر دیا۔خدا کی قدرت! کہ پہلی ہی پیشی میں اس نے حضرت اقدس اور حضرت حکیم صاحب کو بری کر دیا اور مجرمانہ کی رقم واپس کرنے کا حکم دیدیا۔مقدمہ کی مسل دیکھ کر اس نے یہ بھی کہا۔افسوس کہ یہ لغو مقدمہ خواہ مخواہ اتنا لمبا کیا گیا۔اگر یہ مقدمہ میرے پاس ہوتا تو میں ایک دن میں اس کا ے تحفہ گولر و یہ ایڈیشن اوّل صفحہ ۴۸ تا ۵۰ روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۶۷ سے حقیقۃ الوحی ایڈیشن اوّل صفحہ ۲۶۶، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۷۸ تفصیل کے لئے دیکھئے سیرۃ المہدی حصہ دوئم صفحہ ۶۷