حیات طیبہ — Page 291
291 کرنے والوں میں سے کسی کو بھی دم مارنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔حضور کے دعویٰ نبوت ورسالت کو قبول کر کے انکار کر دینے والوں کے ہاتھ میں منجملہ اور چند باتوں کے بڑی باتیں صرف دو تھیں۔ایک یہ کہ ہر نبی شریعت لایا کرتا ہے۔نبی کے لئے شریعت لانا ضروری ہے۔دوم یہ کہ جو شریعت نہ لائے وہ محدث ہی ہوسکتا ہے۔نبی نہیں ہوسکتا۔اور ان دو باتوں کا رڈ ” ایک غلطی کا ازالہ پہلے سے اپنے اندر موجود رکھتا ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: ” اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو۔6 اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک نبی تو آ سکتا ہے ( اور اس جگہ بلحاظ موقع نبی کے لفظ سے حضور کی مراد خود اپنا ہی وجود ہے ) مگر ایسا نبی قیامت تک نہیں آسکتا۔جس پر جدید شریعت نازل ہوا اور حضور فرماتے ہیں: ”نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں۔“ حضرت اقدس کی ان واضح اور مشرح تحریروں کے بعد یہ کہنا کہ الفاظ نبی ورسول سے حضور کی مراد ایک غلطی کا ازالہ لکھنے کے وقت محدث تھی اور حضور اپنے آپ کو نبی ورسول نہیں بلکہ محدث ہی یقین کرتے تھے۔قطعا لغو د باطل اور تفسیر القول بما لا یرضی بہ قائلہ کے مطابق بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔حضرت اقدس کے مندرجہ بالا اقتباسات میں تو اپنی نبوت ورسالت کا ذکر اور اس کی تفصیل و تشریح اور اپنے لئے محدث کا نام درست نہ ہونے اور نبی ورسول کا نام درست ہونے کا ذکر تھا اور اب اگلے اقتباس میں یہ ذکر ہے کہ حضور کو ابتداء میں نبوت ورسالت کے دعویٰ سے انکار کیوں تھا اور بعد کو اقرار کیوں ہوا۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسولِ مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اُس کا نام پا کر اُسکے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سواب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔اور میرا یہ قول که من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ہاں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ