حیات طیبہ — Page 267
267 پیر صاحب پر آخری اتمام حجت حضرت اقدس نے آخری اتمام حجت کے طور پر ۲۸ / اگست ۱۹۰۰ ء کو ایک اور اشتہار شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ اول تو پیر صاحب کو تفسیر نویسی کے مقابلہ میں آنا چاہئے لیکن اگر وہ ایسے مقابلہ کی جرأت نہ کر سکتے ہوں تو پھر میں انہیں آخری اتمام جنت کے طور پر ایک اور طریق فیصلہ کی طرف بلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے اجازت دی جائے کہ مجمع عام میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین گھنٹے تک اپنے دعوئی اور اس کے دلائل کو پبلک کے سامنے بیان کروں۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف کوئی خطاب نہ ہوگا اور جب میں تقریر ختم کر چکوں تو پھر مہر علی شاہ صاحب اُٹھیں اور وہ بھی تین گھنٹے تک پبلک کو مخاطب کر کے یہ ثبوت دیں کہ حقیقت میں قرآن و حدیث سے یہی ثابت ہے کہ مسیح آسمان سے آئے گا۔پھر اس کے بعد لوگ ان دونوں تقریروں کا خود موازنہ اور مقابلہ کر لیں گے۔“ پیر صاحب کی گولڑہ واپسی پیر گولڑوی صاحب کے متعلق مشہور تھا کہ جمعہ تک لاہور ٹھہر ینگے اس لئے لاہور کے تعلیم یافتہ طبقہ نے اصرار کیا کہ حضرت پیر صاحب شاہی مسجد میں جمعہ پڑھیں اور وہاں پبلک میں تقریر فرما دیں۔جب یہ مطالبہ شدت پکڑ گیا۔تو پیر صاحب جن کو اپنی قابلیت کا علم تھا۔انہوں نے خیر اسی میں سمجھی کہ جمعہ سے ایک روز قبل ہی گولڑہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔بات یہ تھی کہ وہ عوام الناس میں تو تقریر کر سکتے تھے ،مر تعلیم یافتہ اور معزز طبقہ میں تقریر کرنا ان کا کام نہیں تھا۔وقت معینہ سے ایک روز قبل چلے جانے کی وجہ سے حضرت کا اشتہار بھی لاہور میں اُن کی خدمت میں پیش نہ کیا جاسکا نا چار اشتہار کی تین کا پیاں رجسٹری کروا کر انہیں گولڑہ بھجوائی گئیں اور ساتھ ہی لکھا گیا کہ اگر وہ اس قسم کے مقابلہ میں شامل ہونے کیلئے لاہور تشریف لے آویں تو انہیں سیکنڈ کلاس کا کرایہ اور ان کے دو خادموں کے لئے انٹر کلاس کا کرایہ پیش کیا جائے گا۔مگر انہوں نے جواب ہی نہ دیا۔اور جو غلط نہی واشتعال پبلک میں پھیلا چکے تھے۔اسی پر نازاں ومسرور رہے۔اعجاز امسیح کی تصنیف جب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی تفسیر نویسی میں مقابلہ کے لئے کسی طرح بھی آمادہ نہ ہوئے۔تو حضرت اقدس نے اُن پر حجت پوری کرنے کے لئے ایک اور تجویز اُن کے سامنے پیش کی۔اور وہ یہ تھی کہ: