حیات طیبہ

by Other Authors

Page 266 of 492

حیات طیبہ — Page 266

266 پیر صاحب کے نام خط جب اس اشتہار کا بھی پیر صاحب اور اُن کے مریدوں نے کوئی جواب نہ دیا۔تو اگلے روز ۲۵/ اگست 19 ء کو حضرت حکیم فضل الہی صاحب اور حضرت میاں معراج دین صاحب عمر نے پیر صاحب کو ایک خط لکھا۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ صاف صاف اور کھلے لفظوں میں لکھیں کہ حضرت اقدس مرزا صاحب نے ۲۰ فروری ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں جو تفسیر نویسی میں مقابلہ کرنے کے لئے چیلنج دیا ہے۔آپ اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں اور ہم آپ کو ہزار بار خدا کی قسم دے کر بہ ادب عرض کرتے ہیں کہ آپ اس چینج کے مطابق جو حضرت اقدس نے تفسیر نویسی میں مقابلہ کے لئے آپ کو دیا ہے۔حضرت اقدس کا مقابلہ کریں تا حق و باطل میں فیصلہ کی ایک کھلی کھلی راہ پیدا ہو جائے۔اگر آپ نے اس میں پس و پیش کیا اور تفسیر نویسی کے مقابلہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی غیر متعلق باتوں سے کام لیا یا ہماری گذارش کا کوئی جواب ہی نہ دیا تو ظاہر ہو جائے گا کہ آپ کا منشاء ابطال باطل اور احقاق حق نہیں بلکہ آپ مخلوق کو دھوکا دینا اور صداقت کا خون کرنا چاہتے ہیں۔پیر صاحب کی خاموشی یہ خط ایک غیر احمدی دوست میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ لے کر پیر صاحب کے پاس گئے۔ظہر کا وقت تھا۔پیر صاحب نے فرمایا۔عصر کے بعد جواب دیں گے۔داروغہ صاحب عصر کے بعد گئے۔تو مریدوں نے پیر صاحب کو ملنے ہی نہ دیا۔جماعت کے احباب نے ۲۶ / اگست ۱۹۰۰ء کو ایک رجسٹری چٹھی پیر صاحب کی خدمت میں اسی مضمون پر مشتمل بھیجی۔مگر پیر صاحب نے اُسے وصول ہی نہ کیا۔اس پر جماعت کی طرف سے ۲۷ اگست کو ایک اشتہار اس مضمون کا نکلا۔کہ اب تک نہ تو پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی شرائط منظور کی ہیں اور نہ کوئی تار حضرت مرزا صاحب کو دیا ہے اور نہ کوئی اشتہار اپنی منظوری کا اُن تک پہنچایا ہے۔یہ جو کچھ مشہور کیا جارہا ہے بالکل غلط اور جھوٹ ہے لیکن افسوس کہ پیر صاحب نے اس اشتہار کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔اس اثناء میں حضرت اقدس کا ۲۵ راگست ۱۹۰۰ ء والا اشتہار بھی لاہور پہنچ گیا۔جو فوڑ شائع کر دیا گیا، مگر اس پر بھی پیر صاحب تفسیر نویسی میں مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہوئے۔مگر اُن کے مرید اشتعال پھیلانے اور نا واقفوں کو مغالطہ دینے کی کوششوں میں برابر مصروف رہے۔