حیات طیبہ — Page 250
250 نہیں ہوئی اور نہ آپ اس جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ مسیحیت کے یہی دو بنیادی اُصول تھے جن پر مسیحی عقائد کفارہ اور الوہیت مسیح کی ساری عمارت کھڑی کی گئی تھی اس کتاب میں صلیب پر مسیح کے فوت نہ ہونے اور کشمیر کی طرف سفر کرنے اور بالآخر وہیں فوت ہوکر سرینگر کے محلہ خانیار میں دفن ہونے سے متعلق ایسے قوی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔جن کارڈ قطعا ناممکن ہے اور ایک دنیا اس طرف آرہی ہے چنانچہ ہندو اور عیسائی محققین بھی اس امر کا اقرار کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح صلیبی موت سے بچ کر کشمیر کی طرف آئے تھے۔یہاں تک کہ مشہور مستشرقین کو بھی یہ اقرار کرنا پڑا ہے کہ اناجیل کی آیات میں جو حضرت مسیح کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا ذکر ہے وہ یقیناً الحاقی ہے۔۴ ستاره قیصرہ: یہ رسالہ ۲۴ / اگست ۱۸۹۹ء کو شائع ہوا۔تحفہ قیصریہ کی طرح اس رسالہ میں حضور نے عیسائی عقائد کارڈ کیا اور ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو اسلام کی تبلیغ کی۔۵- تریاق القلوب - یہ کتاب ۱۸۹۹ ء میں تصنیف کی گئی اور ۲۸ / اکتوبر ۱۹۰۲ ء کو دو چار آخری صفحات اضافہ کر کے شائع کر دی گئی۔اس کتاب کی ابتداء میں تو وہ مشہور فارسی قصیدہ ہے۔جس میں آپ نے کامل مومن کی علامات بیان فرمائی ہیں۔اس کے بعد آپ نے زندہ نبی کا نشانِ خصوصی بیان فرمایا اور پھر اپنے نشانات کا تذکرہ کیا ہے۔مرزا امام الدین اور نظام الدین کا مسجد مبارک کے سامنے دیوار کھینچ دینا۔جنوری ۱۹۰۰ء حضرت اقدس اپنے چازاد بھائیوں مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین کے ساتھ قادیان کی جائیداد میں برابر کے شریک تھے اس لئے آپ کو حق پہنچتا تھا کہ شاملات دیہہ سے بھی برابر کا فائدہ اُٹھاتے۔مگر آپ کے نرم رویہ کی وجہ سے ان ظالموں نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو سخت تنگ کر رکھا تھا نہ ڈھاب سے مٹی لینے دیتے تھے نہ کنویں سے پانی حاصل کرنے دیتے۔ایک دفعہ جو ان کی غیر حاضری میں بعض دوستوں نے ڈھاب سے مٹی لی۔تو واپس آکر یہ بہت بگڑے۔گالیاں دیں اور ایک بھنگی کو بلا کر مسجد مبارک کے سامنے دیوار کھچوادی۔حضرت اقدس کو بہت تکلیف ہوئی۔کیونکہ نمازیوں کے مسجد میں داخل ہونے کا وہی راستہ تھا اور حضور بھی اکثر سیر کو اسی راستہ سے باہر جایا کرتے تھے۔نو وارد احمدیوں کے یکے بھی وہاں ہی آکر ٹھہرتے تھے۔اب نمازیوں کو بہت بڑا چکر کاٹ کر ہندو بازار سے ہو کر آنا پڑتا تھا۔حضرت اقدس نے پہلے تو چند آدمی مرزا امام الدین کے پاس بھیجے اور انہیں تلقین فرمائی کہ