حیات طیبہ — Page 248
248 مہیا کئے جائیں۔چنانچہ کتاب ” روضۃ الصفاء“ پڑھنے سے آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کو فتنہ صلیب کے وقت نصیبین کے بادشاہ نے اپنے پاس بلایا تھا اور ایک انگریز کی گواہی بھی مل گئی کہ ضرور حضرت مسیح کو اس بادشاہ کا خط آیا تھا بلکہ وہ خط بھی اس انگریز نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے تو حضور کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کچھ تعجب نہیں کہ اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے نصیبین سے بعض کتے مل جائیں۔یا حضرت مسیح کے بعض حواریوں کی قبروں کا علم ہو جائے لہذا آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ تین دانشمند اور اولو العزم آدمی اس غرض کے لئے نصیبین بھیجے جائیں۔چنانچہ ۱۰/اکتوبر ۹۹ کو ایک اشتہار جلسہ الوداع“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ ۱۲ نومبر ۹۹ کو دوست جمع ہو جائیں اور اس وفد کو جس میں مرزا خدا بخش صاحب اور دو اُن کے ساتھی تھے دُعا کے بعد رخصت کریں۔لے مگر افسوس کہ سفر کی بعض مشکلات کی وجہ سے یہ وفد روانہ نہ ہوسکا۔فونوگراف کے ذریعہ قادیان کے ہندوؤں کو تبلیغ حضرت اقدس کو یہ بڑا شوق تھا کہ تبلیغ اسلام کے نئے سے نئے مواقع تلاش کئے جائیں۔چنانچہ انہی ایام میں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ ایک فونوگراف خرید کر قادیان لائے۔اس کے ساتھ آواز بھرنے کا سامان بھی تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے سورۃ انبیاء کا آخری رکوع پڑھوا کر اس میں بھرا اور حضرت اقدس کو سنایا گیا۔حضرت اقدس اس سے بہت محظوظ ہوئے۔قادیان کے آریوں کو جب پتہ لگا کہ نواب صاحب فونوگراف لائے ہیں تو ایک عجوبہ چیز سمجھ کر کئی آریوں نے حضرت اقدس سے درخواست کی کہ ہم بھی فونوگراف سننا چاہتے ہیں۔حضور نے فرمایا۔بہت اچھا۔آپ بھی کسی وقت آجائیے۔ادھر تو ان کو یہ کہا اور ادھر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے فرمایا۔کہ ہم تو فونوگراف سننا سنانا جب تک کہ اس سے کوئی مفید کام نہ لیا جائے تضیع اوقات سمجھتے ہیں۔کیوں نہ فونوگراف کے ذریعہ ان آریوں کو تبلیغ کی جائے۔چنانچہ آپ نے چند اشعار لکھے اور مولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ آپ انہیں خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر اس میں بند کر دیں۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل کی گئی۔جب آریہ صاحبان آگئے۔تو وہ اشعار سنائے گئے۔جن کا پہلا شعریہ ہے آواز آرہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈ وخدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے اس طرح آریوں کی درخواست بھی منظور ہو گئی اور حضرت اقدس کا شوق تبلیغ بھی پورا ہو گیا۔تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحہ ۷۷،۷۶