حیات طیبہ — Page 150
150 66 وو جائیں یہ صرف چند منٹ کا کام ہے پادری صاحب نے بڑی لیت و لعل کے بعد کہا کہ آپ اپنے آدمیوں کو لے آئیں۔صرف آدھ گھنٹہ کا وقت میں دے سکوں گا اس کے اندر شرائط طے کر لئے جائیں گے“ میں اسٹیشن پر پہنچا جو جو دوست قادیان سے آئے ان سب کو میں نے اسٹیشن پر ہی روک لیا۔ان میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی۔منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی اور منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی بھی تھے۔جب سب دوست اکھٹے ہو گئے تو ہم معہ بستر تین چار گاڑیوں پر سوار ہو کر سیدھے پادری صاحب کی کوٹھی پر جا پہنچے۔پادری صاحب کوٹھی پر موجود تھے۔ہمارے پہنچنے پر انہوں نے اردلی کو حکم دیا کہ کرسیاں برآمدہ میں رکھ دو اور خود دوسرے دروازہ سے پادری عبداللہ آتھم کی کوٹھی پر چلے گئے۔جب کچھ دیر ہوئی تو ہم نے اردلی سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب باہر کیوں نہیں آتے۔اس نے کہا ابھی آجاتے ہیں۔آتھم صاحب کی کوٹھی پر گئے ہیں۔جو قریب ہی ہے صرف سڑک بیچ میں ہے اتنے میں عصر کا وقت آگیا۔اس کوٹھی کے احاطہ میں ایک بہت بڑا درخت بڑکا تھا۔ہم سب نے اس کے نیچے نماز باجماعت پڑھی۔ڈاکٹر صاحب نے آتھم صاحب سے جا کر کہا کہ قادیان سے چند آدمی جلسہ مناظرہ کی شرائط اور تاریخ طے کرنے آئے ہیں۔آپ چل کر تاریخ اور شرائط طے کریں۔اس عرصہ میں جنڈیالہ سے پاندہ صاحب بھی پہنچ گئے۔آتھم صاحب نے کانوں پر ہاتھ دھرا اور کہا۔ڈاکٹر صاحب اگر ایک سو دوسرے مولوی ہوتے تو کچھ پروانہ تھی۔تم نے کہاں بھڑوں کے چھنہ میں ہاتھ ڈال دیا۔مرزا صاحب قادیانی کا مقابلہ کرنا اور ان سے نپٹنا آسان نہیں۔سخت مشکل کام ہے۔تم نے ہی یہ فتنہ اُٹھایا ہے۔تم ہی اس کام کو کرو میں ہرگز نہیں جاؤں گا اور نہ اس میں شریک ہوں گا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا۔عیسائی قوم کے تم ہی پہلوان ہو۔تم ہی یہ کام خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتے ہو۔تمہارے بھروسہ پر میں نے یہ کام شروع کیا ہے اور تم اس سے انکار کرتے ہو۔آپ کو ضرور شامل ہونا پڑے گا۔ان دونوں میں سلسلہ کلام طول پکڑ گیا۔ڈاکٹر صاحب آتھم صاحب کو ساتھ لانا چاہتے تھے۔اور آتھم صاحب با قاعدہ انکار پر تلے ہوئے تھے۔آخر بمشکل چیتہ کی طرح پھسلا کر اور ہلاشیری دلا کر ڈاکٹر صاحب آتھم صاحب کو ساتھ لے ہی آئے ان دونوں کی گفتگو اور آپس کی بات چیت کی کیفیت ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کے مسلمان خانساماں سے بعد میں معلوم ہوئی۔جب دونوں آئے اور کرسیوں پر بیٹھے تو آتھم صاحب کی زبان سے بیساختہ یہ الفاظ نکلے کہ ہائے میں مر گیا۔اس کے بعد میں نے سلسلہ کلام شروع