حیات طیبہ

by Other Authors

Page 134 of 492

حیات طیبہ — Page 134

134 کر چکے تھے۔حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب کی شخصیت بھی تعارف کی محتاج نہیں تھی۔ان ہرسہ بزرگوں کی وجہ سے بھی سیالکوٹ کے لوگ آپ سے خاص طور پر متاثر تھے۔حضرت حکیم صاحب کا سارا خاندان سلسلہ میں داخل ہو گیا اور عرصہ قیام سیالکوٹ میں انہیں شاندار خدمات سرانجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا بیان ہے کہ میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی تو حضرت اقدس کے دعویٰ مسیحیت کی ابتداء میں ہی بیعت میں داخل ہو گئے تھے مگر اُن کے والد حکیم میر حسام الدین صاحب جو بڑے طنطنہ کے آدمی تھے۔وہ اعتقاد تو عمدہ رکھتے تھے مگر بیعت میں داخل نہیں ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ بڑے تھے اور سیالکوٹ کے زمانہ کے دوست بھی تھے۔میر حامد شاہ صاحب ہمیشہ ان کو بیعت کے لئے کہتے رہتے تھے مگر وہ ٹال دیتے تھے۔ان کو اپنی بڑائی کا بڑا خیال تھا ایک دفعہ شاہ صاحب اُن کو قادیان لے آئے اور سب دوستوں نے ان پر زور دیا کہ جب آپ سب کچھ جانتے ہیں تو پھر بیعت بھی کیجئے۔خیر انہوں نے مان لیا۔مگر یہ کہا کہ میں اپنی وضع کا آدمی ہوں۔لوگوں کے سامنے بیعت نہ کروں گا مجھ سے خفیہ بیعت لے لیں۔میر حامد شاہ صاحب نے اسے ہی غنیمت سمجھا۔حضرت صاحب سے ذکر کیا تو آپ نے منظور فرمالیا اور علیحدگی میں حکیم صاحب مرحوم کی بیعت لے لی۔مولوی محمد حسین بٹالوی بھی سیالکوٹ پہنچ گئے اپنے مذموم مشن کو پورا کرنے کے لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی سیالکوٹ پہنچ گئے۔مگر پہنچے اس وقت جبکہ حضور واپسی کا عزم فرما چکے تھے مولوی صاحب نے اپنی لدھیانہ کی شکست کی تلافی کے لئے چند لوگوں کو جن میں مکرم شیخ غلام حید ر صاحب تحصیلدار بھی شامل تھے۔حضرت اقدس کے پاس مباحثہ کا پیغام دیکر بھیجا۔حضرت اقدس نے ان کے سامنے مباحثہ لدھیانہ اور واقعات دہلی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اب تو مولوی صاحب مجھ پر کفر کا فتویٰ بھی لگا چکے ہیں اب مناظرہ کا کیا فائدہ! اب تو انہیں چاہئے کہ قرآن کریم کے مقررہ کردہ معیاروں کے مطابق آسمانی فیصلہ کے لئے اپنے معاون علماء کی جماعت کو ساتھ لے کر میدان میں آئیں اور پھر دیکھیں کہ نصرت الہی اور تائیدات سماویہ کس کا ساتھ دیتی ہیں۔اگر میں اپنے دعوی میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ خود مجھے ہلاک کر دے گا، لیکن اگر میں سچا ہوا تو یہ علماء اپنے مقاصد میں نا کامیاب ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ ہر ہر قدم پر میری نصرت کریگا اور میری قبولیت کو آفاق عالم میں پھیلا دیگا۔لسیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ ۲۵۸،۲۵۷۔