حیات طیبہ — Page 131
131 مدعی مہدویت کا آپ پر حملہ ان ایام میں آپ نماز میں حضرت مولوی رحیم کے اللہ صاحب کی مسجد میں (جو لنگے منڈی میں حضرت منشی چراغدین صاحب کے مکانات کے سامنے تھی ) پڑھا کرتے تھے ایک روز آپ ظہر یا عصر کی نماز پڑھ کر نکلے۔مسجد سے باہر نکل کر مکان کو جارہے تھے کہ پیچھے سے ایک شخص نے (جو اپنے آپ کو مہدی کہتا تھا اور لا اله الا اللہ مہدی رسول اللہ کا کلمہ پڑھتا تھا ) آپ کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔مگر وہ نہ تو آپ کو اُٹھا سکا اور نہ گر اسکا۔حضرت سید امیر علی شاہ صاحب سیالکوٹی نے اس کو پکڑ کر الگ کر دیا۔وہ اس کو مارنا چاہتے تھے۔حضرت نے مسکرا کر کہہ دیا کہ اسے کچھ مت کہو وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ اس کا عہدہ میں نے سنبھال لیا ہے اور برابر مکان تک تھوڑی دیر کے بعد مڑ کر دیکھتے کہ کوئی اُسے دُکھ نہ دے۔وہ ساتھ ساتھ آرہا تھا اور مکان کے باہر اس نے اپنی تقریر شروع کر دی۔یہ شخص ضلع گوجر انوالہ کے ایک گاؤں کا رہنے والا تھا اور اس کا بھائی جو پیغمبر اسنگھ کے نام سے ہماری جماعت میں مشہور مخلص تھا۔آخر احمدی ہو گیا تھا۔اس نے لاہور ہی کی ایک مجلس میں حضرت اقدس پر پھول برسائے اور اپنے اس بھائی کے لئے معافی مانگی۔پیغمبر اسنگھ کو بھی ایک زمانہ میں دعویٰ تھا کہ وہ سکھوں کے گورورام سنگھ کا اوتار ہے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس پر حقیقت اسلام کھول دی اور وہ ایک متقی اور مخلص احمدی بنا ہے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کی آمد فروری ۱۸۹۲ء لاہور ہی میں فروری ۱۸۹۲ء کے شروع میں حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی تشریف لائے۔سیّد صاحب مرحوم کا ذکر پہلے گذر چکا ہے کہ آپ نواب صدیقی حسن خان صاحب بھو پالوی کے مقربین میں سے تھے اور گروہ اہلحدیث کے ایک مشہور و معروف عالم۔آپ نے سلسلہ میں داخل ہو کر ابتدائی زمانہ میں قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں اور یہی وہ بزرگ ہیں جن کے متعلق حضرت اقدس کو الہام ہوا تھا کہ از پے آس محمد احسن سرا تارک روزگار می بینم ے حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب لاہور شہر میں سب سے پہلے احمدی تھے۔ان کی تبلیغ سے میاں فیملی میں سب کے پہلے حضرت میاں معراج الدین صاحب عمرہ نے بیعت کی تھی۔سے حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۱۰ سے خلافت ثانیہ کے عہد میں مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی اپنے اہل وعیال کے فتنہ کی وجہ سے غیر مبائعین میں شامل ہو گئے تھے لیکن بعد میں انہوں نے تو بہ کر لی تھی۔