حیات طیبہ

by Other Authors

Page 130 of 492

حیات طیبہ — Page 130

130 حضرت مجلس میں تشریف فرما تھے اور منشی شمس الدین صاحب مرحوم جنرل سیکرٹری کو آپ نے آسمانی فیصلہ دیا کہ اسے پڑھ کر حاضرین کو سنائیں۔اس وقت کا پورا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے ہے اس مجلس میں بابوموز مدار جو برہمو سماج کے ان دنوں منسٹر تھے اور ایگزامز آفس میں بڑے آفیسر تھے اور اپنی نیکی اور خوش اخلاقی کے لئے معروف تھے۔سوشل کاموں میں آگے آگے رہتے وہ اس جلسہ میں موجود تھے۔ایک شخص جو مسلمان کہلاتا تھا۔آیا اور اس نے اپنے غیظ وغضب کا اظہار نہایت ناسزاوار الفاظ اور گالیوں کی صورت میں کیا۔حضرت اپنی پگڑی کا شملہ منہ پر رکھے سنتے رہے اور بالکل خاموش تھے۔آپکے چہرہ پر کسی قسم کی کوئی علامت نفرت یا غصہ کی ظاہر نہیں ہوئی۔یوں معلوم ہوتا تھا۔گویا آپ کچھ سنتے ہی نہیں۔آخر وہ تھک کر آپ ہی خاموش ہو گیا اور چلتا بنا۔حاضرین میں سے اکثر کو غصہ آتا تھا۔مگر کسی کو یہ جرات حضرت کے ادب کی وجہ سے نہ تھی کہ اسے روکتا۔جب وہ چلا گیا تو بابوموز مدار نے کہا۔”ہم نے مسیح کی بردباری کے متعلق بہت کچھ پڑھا ہے اور سنا ہے۔مگر یہ کمال تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔انہوں نے اس سلسلہ میں بہت کچھ کہا اور چونکہ ان کے دفتر میں ہماری جماعت کے اکثر احباب تھے اور وہ ان سب کا احترام کرتے تھے اور حضرت منشی نبی بخش صاحب " پر تو ان کی خاص نظر عنایت تھی۔وہ اکثر اس واقعہ کو بیان کرتے اور حضرت کے کمال ضبط کی تعریف کرتے۔1 لاہور کے بعض دوستوں کی بیعت حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی بیان ہے کہ اس مکان میں لاہور کے اکثر دوستوں نے بیعت کی اور میں نے بھی تجدید بیعت کی۔حضرت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب۔حضرت عبد العزیز صاحب مغل اور ان کے خاندان سے کے اکثر افراد نے اس موقعہ پر بیعت کی تھی۔جن کے نام اس رجسٹر میں موجود ہیں جو حضرت کے اپنے قلم کا زیادہ تر لکھا ہوا ہے جس کی ایک نقل میرے پاس بھی ہے۔“سے ام حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۱۰ سے حضرت میاں عبد العزیز صاحب سے چند روز پیشتر حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر بیعت کر چکے تھے اور حضرت میاں چراغ دین صاحب جو حضرت مغل صاحب کے والد اور میاں معراج الدین صاحب عمر کے عم زادہ تھے۔انہوں نے خاندان کے اکثر افراد کے ساتھ حضرت مغل صاحب کے بعد بیعت کی تھی۔سے حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۱۰