حیات طیبہ — Page 116
116 پھر بعد اس کے خواجہ صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جبکہ ان عقائد میں در حقیقت کوئی نزاع نہیں۔فریقین بالاتفاق مانتے ہیں تو پھر ان میں بحث کیونکر ہوسکتی ہے۔بحث کے لائق وہ مسئلہ ہے جس میں فریقین اختلاف رکھتے ہیں۔یعنی وفات وحیات مسیح کا مسئلہ جس کے طے ہونے سے سارا فیصلہ ہو جاتا ہے۔بلکہ بصورت ثبوت حیات مسی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ سب ساتھ ہی باطل ہوتا ہے اور یہ بھی بار بار اس عاجز کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے خود وعدہ کر لیا ہے کہ اگر نصوص ہینہ قطعیہ قرآن وحدیث سے حیات مسیح ثابت ہوگئی تو میں مسیح موعود کا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا۔“ حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں : لیکن باوجود اس کے کہ خواجہ صاحب نے اس بات کے لئے زور لگایا کہ فریق مخالف ضدّ اور تعصب کو چھوڑ کر مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث شروع کر دیں مگر وہ تمام مغز خراشی بے فائدہ تھی۔شیخ الکل صاحب کی اس بحث کی طرف آنے سے جان جاتی تھی لہذا انہوں نے صاف انکار کر دیا اور حاضرین کے دل ٹوٹ گئے۔میں نے سنا ہے کہ ایک شخص بڑے درد سے کہہ رہا تھا کہ آج شیخ الکل نے دہلی کی عزت کو خاک میں ملاد یا اور ہمیں خجالت کے دریا میں ڈبو دیا۔بعض کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارا یہ مولوی سچ پر ہوتا تو اس شخص سے ضرور بحث کرتا۔“ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی بیان فرماتے ہیں: ادھر یہ باتیں ہو رہی تھیں اور ادھر ہجوم میں افرد جنگی بڑھ رہی تھی۔اسی دوران میں کپتان پولیس جو انگریز تھا حضرت اقدس سے کہنے لگا کہ آپ کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے؟ شیخ رحمت اللہ صاحب نے انگریزی میں اسے جواب دیا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب وفات حضرت مسیح کے دلائل بیان فرما ئیں اور مولوی نذیر حسین صاحب قسم کھا کر یہ کہہ دیں کہ میرے نزدیک اب بھی قرآن وحدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔پھر وہ مولوی نذیر حسین صاحب کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ تمہیں ایسی قسم منظور ہے؟ تو انہوں نے کہا میں قسم نہیں کھاؤں گا۔اس نے آکر حضرت صاحب سے کہا کہ وہ آپ کے دلائل سن کر قسم کھانے پر آمادہ نہیں اس لئے آپ کو رخصت ہو جانا چاہئے۔حضرت یہ سن کر چلنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔میں ( یعنی حضرت منشی ظفر احمد کپور تھلوی۔ناقل ) نے حضور