حیات طیبہ

by Other Authors

Page 103 of 492

حیات طیبہ — Page 103

103 اس بیان کے بعد پھر میاں کریم بخش صاحب نے بیان کیا کہ ایک بات میں بیان کرنے سے رہ گیا وہ یہ ہے کہ اس مجذوب نے مجھے صاف صاف یہ بھی بتلا دیا تھا کہ اس عیسی کا نام ”غلام احمد ہے۔اس بیان کے نیچے پچاس کے قریب ایسے آدمیوں کی گواہیاں درج ہیں جنہوں نے حلفاً بیان کیا ہے کہ میاں کریم بخش ایک راستباز آدمی اور صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے۔ازالہ اوہام کی تصنیف و اشاعت فتح اسلام اور توضیح مرام دور سالے تو آپ کی طرف سے اپنے دعوی کے ثبوت میں شائع ہو ہی چکے تھے۔اب آخر ۱۸۹۱ء میں ازالہ اوہام جیسی معرکۃ الآرا تصنیف بھی دو حصوں میں شائع ہو گئی۔اس اہم تصنیف میں آپ نے وفات مسیح اور اپنے دعویٰ کی تفاصیل پر ایسی سیر کن بحث کی ہے کہ گویا دن ہی چڑھا دیا ہے۔پھر حیات مسیح کے عقیدہ کے نقصانات کو بھی نہایت ہی شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا فائدہ بیان کرتے ہوئے آپ نے اپنے احباب کو ایسی قیمتی وصیت کی ہے جو آب زر کے ساتھ لکھنے کے قابل ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”اے میرے دوستو ! اب میری ایک آخری وصیت کو سنو۔اور ایک راز کی بات کہتا ہوں۔اس کو خوب یا درکھو کہ تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تمہیں پیش آتے ہیں پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر دو کہ در حقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لیے فوت ہو چکا ہے یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف لپیٹ دو گے۔تمہیں کچھ ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کر وصرف مسیح ابن مریم کی وفات پر زور دو اور پر زور دلائل سے عیسائیوں کو لا جواب اور ساکت کردو۔جب تم مسیح کا مُردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔یقیناً سمجھو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہوان کا مذہب بھی فوت نہیں ہو سکتا اور دوسری تمام بخشیں ان کے ساتھ عبث ہیں۔ان کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔اس ستون کو پاش پاش کرو۔پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کرے اور یورپ اور ایشیا میں توحید کی ہوا چلا وے۔اس لئے اس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔چنانچہ اس کا