حیات طیبہ

by Other Authors

Page 89 of 492

حیات طیبہ — Page 89

89 کتاب لکھ رہے تھے اس میں منظور کر لیا۔مگر ابھی وہ کتاب ختم نہ ہوئی تھی کہ مولوی صاحب فوت ہو گئے اور بعد میں آنے والوں کے لئے ایک نشان چھوڑ گئے۔اے لدھیانہ واپسی قریباً ایک ہفتہ علیگڑھ میں قیام فرمانے کے بعد آپ واپس لدھیانہ تشریف لے آئے اور چند دن قیام فرما کر اپریل ۱۸۸۹ء کے دوسرے ہفتے کے شروع میں واپس قادیان پہنچ گئے۔اکتوبر ۱۸۸۹ء کو آپ پھر اپنی خوشدامن صاحبہ کی والدہ محترمہ کی بیماری کی وجہ سے لدھیانہ تشریف لے گئے۔کیونکہ ان ایام میں آپ کے خسر حضرت میر ناصر نواب صاحب لدھیانہ میں ہی بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔وہاں سے ۱۲ نومبر ۱۸۸۹ء کو واپس قادیان تشریف لائے۔حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی کی بیعت - ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۹ء! حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی جمالی جو حضرت چہار قطب ہانسوی کی اولاد میں سے تھے اور خود بھی صاحب بیعت وارشاد تھے۔آپ کی صداقت کے قائل تو شروع میں ہی ہو چکے تھے مگر وہ لدھیانہ میں بیعت کرنے کی بجائے قادیان کی مسجد مبارک میں بیعت کرنا چاہتے تھے اس لئے وہ قادیان تشریف لائے اور ۲۳/ دسمبر ۱۸۸۹ء کو مسجد مبارک میں بیعت کی۔سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی بیعت ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء حضرت نواب محمد علی خاں صاحب مالیر کوٹلہ کے نوابی خاندان کے اراکین میں سے اور تفضیلی شیعہ تھے۔یعنی حضرت علی کو خلفائے ثلاثہ سے افضل مانتے تھے۔آپ نے بھی اپنی ایام میں بیعت کی۔ایک خاندانِ ریاست میں پروردہ نو جوان کا جو شیعہ خیالات سے تعلق رکھنے والے تھے آپ کے ہاتھ پر دنیا کے لومتہ لائم سے بے پرواہ ہوکر آپ کا حلقہ بگوش ہو جانا اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل تھا اور آپ کی پاکیز ہ باطنی اور تقوی شعاری کا شاہد۔حضرت نواب صاحب ۱۸۹۰ء کے شروع میں قادیان تشریف لے گئے اور ستمبر۔اکتوبر ۱۸۹۰ ء میں لدھیانہ جا کر حضرت اقدس سے ملاقات کی۔پھر ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء کو بذریعہ خط حضرت اقدس کی بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے فالحمد للہ علی ذلک رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت کا نمبر ۲۱۰ ہے۔له حیات احمد جلد سوم صفحہ ۳۶ سے بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحه ۴۱