حیات طیبہ — Page 83
83 شرائط بیعت اس اعلان میں جن شرائط بیعت کا ذکر ہے وہ آپ نے ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کے اشتہار تکمیل تبلیغ ، میں شائع فرمائیں۔جو یہ ہیں : اوّل۔بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے۔شرک سے مجتنب رہے گا۔دوم۔یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا۔اگر چہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔سوم۔یہ کہ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتارہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنالے گا۔چہارم۔یہ کہ عام خلق اللہ کو عموما اور مسلمانوں کو خصوصا اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔پنجم۔یہ کہ ہر حال رنج و راحت اور عسر و یسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہوگا اور ہر ایک ذلت اور دکھ قبول کرنے کے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے مونہہ نہیں پھیرے گا۔بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔ششم۔یہ کہ اتباع رسم ومتابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کر لے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ہفتم۔یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور علیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔شتم۔یہ کہ دین اور دین کی عربت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔تہم۔یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دہم۔یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت میں محض اللہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ