حیات قدسی — Page 76
مندرجہ ذیل ابتدائی دوشعر میں نے پڑھے کہ أمن تذكر جيرانٍ بذى سَلَم مَزَجُتَ دَمَعَــاجَــــرى من مقلةٍ بـدم مَا لِعَيْنَيْكَ إِذْ قَلْتَ اكْفَفَا هَمَتَا وَمَالِقَلبكَ إِذْ قَلت استفق يهـم ترجمہ: جاں چت آون میرے تائیں ساتھی ذی سلم دے نین میرے بھر پنجوں روون مارے در دالم دے اکھیں نوں میں منع کراں نہ رووڈھائیں ڈھائیں دل نوں صبر قرار دیاں پر دوویں مجھن ناھیں تو اس وقت اس لڑکی کی شکل میرے سامنے آئی جو بحالت اشکبار میرے سامنے کھڑی تھی۔اس کے حالت نے مجھ پر اس وقت ایسا اثر کیا کہ مجھے بھی اس کی محبت محسوس ہونے لگ گئی اور میں نے اس کے لئے دعا کا سلسلہ جاری کر دیا۔جب ہم دونوں بھائی قادیان پہنچے اور مجھے اکثر اس لڑکی کا خیال دامنگیر رہا تو ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور مجھے مخاطب کر کے فرماتے ہیں 66 وہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کے سوا تمہارے دل میں ہے۔“ حضور علیہ السلام کا یہ فرمانا تھا کہ وہ لڑکی میرے سامنے آئی اور اس کی شکل اتنی مکر وہ دکھائی دیے کہ میری طبیعت کراہت اور نفرت سے بھر گئی اور میرا دل اس وقت غیر اللہ کی باطل محبت سے بالکل پاک وصاف ہو گیا۔نماز عشاء کی ادائیگی ایک دفعہ مغرب کی نماز کے بعد میں ایک مجلس میں احمدیت کی تبلیغ کرتا رہا اور یہ سلسلہ کچھ اتنا لمبا ہوا کہ رات کے بارہ بج گئے۔سامعین نے کہا کہ آپ کی باتیں تو بڑی دلچسپ اور معلومات سے پر ہیں۔مگر رات چونکہ زیادہ گذر چکی ہے اس لئے اگر مناسب ہو تو بقیہ مضمون کسی دوسری مجلس میں بیان فرمایا جائے۔میں نے بھی ان کی تائید کی اور سلسلہ تقریر موقوف کر دیا مگر اس کے بعد مجھ پر نیند نے