حیات قدسی

by Other Authors

Page 74 of 688

حیات قدسی — Page 74

۷۴ ساکن سیتو کی تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ حضور کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور بیعت سے مشرف ہونے کے بعد زار و قطار رو پڑے اور عرض کیا کہ حضرت! میری عمر اب ستر سال کی ہوگئی ہے جوساری کی ساری گناہوں اور غفلت میں گذری ہے کیا میرے لئے بھی کوئی بخشش کی صورت ہو جائے گی ؟ حضور اقدس نے از راہ شفقت فرمایا۔” جو شخص سچے دل سے میرے ہاتھ پر پچھلے گنا ہوں سے تو بہ کر لیتا ہے خواہ وہ کیسے بھی ہوں خدا تعالیٰ انہیں بخش دیتا ہے۔حکیم صاحب نے پھر عرض کیا کہ حضور میرے گناہ تو بہت بڑے ہیں کیا ان کو بھی خدا تعالی بخش دے گا۔حضور اقدس نے دوبارہ فرمایا ہاں سچے دل سے تو بہ کرنے سے بڑے بڑے گناہ بھی خدا تعالیٰ بخش دیتا ہے۔حکیم صاحب نے تیسری مرتبہ پھر روتے ہوئے عرض کیا حضرت ! میرے گناہ تو پہاڑوں اور آسمانوں سے بھی بڑے ہیں۔حضور اقدس علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان سے بھی بڑھ کر ہے۔ربنا اغفر لنا ذنوبنا وكفر عنا سئياتنا اچھی نیت کا پھل حافظ امام الدین صاحب رضی اللہ عنہ ساکن قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ جو عرصہ تک گوجرانوالہ شہر میں ہی قیام پذیر رہے۔پہلے حنفی تھے۔پھر وہابی ہوئے اور وہابی ہونے کے بعد چکڑالوی یعنی اہل قرآن فرقہ میں داخل ہو گئے۔اس کے بعد جب انہیں احمدی احباب سے گفتگو کرنے کا موقع ملا اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق یقین ہو گیا تو حضور اقدس علیہ السلام کی بیعت کرنے کے لئے قادیان آئے۔ان دنوں میں بھی قادیان میں ہی تھا۔چنانچہ حافظ صاحب نے حضور اقدس کی بیعت کی اور بعد میں حضور علیہ السلام کی اجازت سے اپنی تمام سرگذشت جو تبدیلی مذہب کی تھی سنا کر عرض کیا کہ حضور کیا میری وہ نمازیں جو میں نے اہل قرآن کے - ہونے کی حالت میں مولوی عبد اللہ چکڑالوی کے پیچھے ادا کی ہیں ضائع ہو چکی ہیں یا ان کی قبولیت کی کوئی صورت باقی ہے۔حضور اقدس علیہ السلام نے فرمایا حافظ صاحب! ہماری بیعت سے ان نمازوں کی قبولیت کا سر ٹیفکیٹ آپ کو مل گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اخلاص کے ساتھ ان نمازوں کے ادا کرنے کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیعت کی توفیق بخشی ہے۔اب جو کچھ پہلے کمی یا غلطی رہ گئی تھی وہ ہماری تعلیم پر عمل کرنے سے دور ہو جائے گی۔اور بیعت کرنے والوں کی