حیات قدسی

by Other Authors

Page 67 of 688

حیات قدسی — Page 67

۶۷ سعادت نصیب ہو گی کہ ان ہر سہ دوروں تک زندگی نصیب ہونے کے علاوہ ان دوروں میں خدمات سلسلہ کی بھی سعادت عطا فرمائی جائے گی۔چنانچہ اللہ تعالی کے فضل سے ایسا ہی ظہور میں آیا۔والحمد لله على ذالک بشارت الہی سید نا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد ہمایوں میں ایک مرتبہ میں قادیان مقدس میں حاضر ہوا تو منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی سے ملاقات ہوئی۔حضرت منشی صاحب ان دنوں مہمان خانہ کی بجائے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیت الفکر میں سویا کرتے تھے۔ایک رات عشاء کی نماز کے بعد مختلف مسائل کے متعلق گفتگو کرتے کرتے آپ نے مجھے کہا کہ میں آج کل بیت الفکر میں سویا کرتا ہوں آئیے ! وہاں ہی چل کر بیٹھیں اور گفتگو کریں۔چنانچہ میں آ۔کے ساتھ ہو لیا اور ہم دونوں دیر تک بیت الفکر میں باتیں کرتے رہے۔یہاں تک کہ جب دس گیارہ بجے کا وقت ہو گیا تو آپ نے مجھے کہا آپ آج یہاں میرے پاس ہی سور ہیں۔میں نے بھی مناسب سمجھا مگر آپ تو سو گئے اور میرے دل پر قیامت کا ہولناک تصور کچھ ایسے رنگ میں مستولی ہوا کہ میں تقریبا رات کے دو بجے جبکہ میری حالت قوتِ ضبط سے باہر ہونے لگی آہستہ سے بیت الفکر سے باہر نکلا اور قادیان سے مشرق کی طرف ایک بیری کے درخت کے پاس صبح کی اذان تک روتا رہا۔نماز کے وقت مسجد مبارک میں آیا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے پیچھے نماز ادا کی۔نماز کے بعد منشی صاحب فرمانے لگے آپ مجھے سویا ہوا چھوڑ کر خود مسجد میں تشریف لے آئے ہیں مجھے بھی جگا لیتے تو میں بھی آپ کے ساتھ مسجد میں آجاتا۔میں نے کہا آپ آرام سے سوئے ہوئے تھے میں نے آپ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔اس کے بعد جب کچھ روز تک میں اسی طرح قیامت کے ہولناک تصور سے خوفزدہ رہا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک کی دوسری چھت پر بہشتی مقبرہ کی طرف منہ کئے ہوئے تشریف فرما ہیں اور حضور کے پاس ایک رجسٹر ہے جس میں جنتی لوگوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔میں حضور اقدس کے پیچھے کھڑا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ نہ معلوم اس رجسٹر میں میرا نام بھی موجود ہے یا نہیں۔میرا یہ خیال کرنا ہی تھا کہ حضور اقدس نے اس رجسٹر کے اوراق اُلٹنے شروع کئے یہاں تک کہ ایک صفحہ پر یہ لکھا ہوا میں نے پڑھا۔