حیات قدسی — Page 52
۵۲ دودھ تھا۔تو ان دنوں میں اکثر صوم الوصال کے روزے رکھا کرتا تھا۔ایک دن روزے کی وجہ سے مجھے پینے کی خواہش محسوس ہوئی تو اسی وقت موضع مذکورہ کا ایک زمیندار مسمی اللہ دتا میرے لئے دودھ کا ایک بدھنا لے آیا۔اور اسی طرح تقریباً ہفتہ بھر وہ کسی تحریک کے بغیر ہی میری خدمت کرتا رہا۔چونکہ اس سے قبل میری اس شخص سے کوئی شناسائی نہ تھی۔اس لئے میں نے ایک روز اس سے اس مدارات کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ چونکہ راجیکی والے بزرگوں کی اولاد سے ہیں اور پھر ہر روز آٹھ پہرہ روزہ رکھتے ہیں اس لئے مجھے خیال آیا کہ میں آپ ایسے بزرگوں کی کوئی خدمت کروں۔میں نے کہا کہ اگر آج تم اس خدمتگذاری کی اصل وجہ بیان نہیں کرو گے تو میں یہ دودھ ہرگز نہیں پیوں گا۔وہ کہنے لگا یہ خدمت تو میں فقط ثواب کے حصول کی غرض سے بجا لا رہا ہوں۔مگر ویسے آپ کی دعاؤں کا ضرور حاجتمند ہوں۔کیونکہ میرے سات بچے بڑے خوبصورت پیدا ہوئے تھے۔مگر ان میں سے ہر ایک سال دو سال کی عمر پا کر فوت ہو گیا ہے۔ان بچوں کے متواتر فوت ہو جانے کے کی وجہ سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اٹھرا کا مرض ہے۔مگر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مصیبت کسی جادو کے نتیجہ میں آئی ہے یا کسی بزرگ کی سوء ادبی کی سزا ہے۔اس لئے اب اس کو ٹلانے کے لئے کسی ایسے کامل فقیر کی ضرورت ہے جو نوشتہ قسمت کو بدل دے۔جب اس نے لوگوں کی اس قسم کی باتیں سنائیں اور چند دن کے بعد اس کا آخری لڑکا بھی فوت ہو گیا تو وہ پھر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھ گنہگار کو بخشے اور آئندہ ان صدمات سے محفوظ رکھے۔میں نے جب اس کی یہ دست بستہ التجا ئیں سنیں تو میرا دل اس کی حالت پر پکھل گیا اور میں نے اسے کہا کہ میں انشاء اللہ تمہارے لئے دعا کروں گا اور جب تک میرا مولا کریم تمہارے بارہ میں میری تسلی نہ فرمادے میں انشاء اللہ دعا کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔چنانچہ اس کے بعد متواتر ایک عرصہ تک جب میں نے اس کے لئے دعا کی تو آخر خیر الراحمین خدا نے مجھے یہ بشارت دی اور مجھے مطمئن فرمایا کہ اب اللہ دتا کا کوئی بچہ بچپن میں فوت نہیں ہوگا۔چنانچہ میں نے یہ بشارت قبل از وقت اللہ دتا اور بعض دوستوں کو اس وقت سنا دی اور اس کے بعد جیسا کہ مولا کریم نے فرمایا تھا اس کے یہاں دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی جو خدا کے فضل سے بڑے ہوئے اور اب صاحب اولاد بھی ہیں۔الحمد لله علی ذالک