حیات قدسی

by Other Authors

Page 632 of 688

حیات قدسی — Page 632

۶۳۲ تشریف لائے۔تذکرۂ محبت کے طور پر بہت سی پرانی باتیں کرتے رہے۔جن میں سے مندرجہ ذیل ایمان افزاء واقعہ احباب کے استفادہ کے لئے درج کرتا ہوں۔یہ واقعہ انہوں نے میرے لڑکے عزیز میاں برکات احمد صاحب بی اے کی موجودگی میں ذکر کیا۔جناب حکیم صاحب نے بیان فرمایا کہ ۱۹۲۰ء میں جب میرے والد ماجد حضرت میاں چراغ دین صاحب کی وفات ہوئی تو میں اس وقت احاطه مدراس میں مولوی محمد علی صاحب مرحوم کی طرف سے بطور مبلغ غیر مبایعین متعین تھا۔تقریباً تین صد روپیہ مجھے مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے مشاہرہ ملتا تھا اور اتنی ہی رقم مدراس کے ایک سیٹھ ادا کرتے تھے۔جب مجھے مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے میرے والد صاحب کی وفات کی اطلاع بذریعہ تار ملی اور ساتھ ہی لاہور پہنچنے کی ہدایت تو میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں واپس لا ہور آنے کے لئے بے تاب ہو گیا۔مدر اس کے سیٹھ صاحب نے مجھے کہا کہ اب واپس لاہور پہنچنے کا کوئی فائدہ نہیں۔جنازہ میں تو آپ شریک نہیں ہو سکتے لیکن میری طبیعت میں بے چینی تھی۔میں وہاں مزید نہ ٹھہرا اور سید ھالاہور پہنچا گھر سے مجھے معلوم ہوا کہ میرے والد محترم کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی ہے میں غمزدہ حالت میں اسی وقت قادیان کے لئے روانہ ہو گیا۔قادیان پہنچ کر سیدھا بہشتی مقبرہ گیا اور وہاں اپنے والد صاحب مرحوم کی قبر دریافت کر کے اس پر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔دعا کرتے ہوئے ابھی مجھے ایک دو منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھ پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میں نے دیکھا کہ والد صاحب حضرت میاں چراغ الدین قبر کے سرہانہ کے پاس کھڑے ہیں اور بلند آواز سے مجھے پکارتے ہیں ”محمد حسین ، محمد حسین۔میں ان کی آواز سن کر اور ان کو سامنے زندہ دیکھ کر حیرت میں آگیا اور ان کو کچھ جواب نہ دے سکا۔آخر جب انہوں نے تیسری مرتبہ مجھے زور سے پکارا تو میں نے جواباً عرض کیا۔میاں جی ! حاضر ہوں فرمائیے۔آپ نے نہایت پر جلال الفاظ میں فرمایا :۔جاؤ! جا کر بیعت کر لو!“ میں نے عرض کیا ”اچھا! میاں جی میں تیار ہوں۔جو نہی میں نے یہ جواب دیا میری کشفی حالت جاتی رہی اور میں نے دیکھا کہ میں قبر کے پاس دعا کر رہا ہوں۔